ٹیک کمپنیوں میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث ملازمین کی نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں۔ کوڈنگ کے ماہرین کا خیال ہے کہ پروگرامرز کو نئے کیریئر کے مواقع تلاش کرنے شروع کر دینا چاہیے۔
Zoho کے شریک بانی سری دھر ویمبو کے مطابق اے آئی کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور حال ہی میں Anthropic کے Claude Opus 4.6 ماڈل نے خود سے C کمپائلر تیار کر کے ایک نمایاں انجینئرنگ کا کارنامہ انجام دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے بڑھتے اثرات، خواتین کی ملازمتیں اگلے 10 سال میں ختم ہو جائیں گی؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویمبو نے ایک صارف کی مثال دی، جس نے اے آئی کی مدد سے بھگوت گیتا کی ایپ صرف ایک ہفتے میں تیار کی، حالانکہ وہ خود کوڈنگ نہیں جانتا تھا۔ ویمبو نے اسے اے آئی-مدد یافتہ کوڈ انجینئرنگ پیداواریت کی واضح مثال قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ سب کے لیے بہتر ہے جو کوڈ لکھ کر اپنی زندگی گزارنے پر انحصار کرتے ہیں کہ وہ متبادل ذرائع معاش پر غور کریں۔ میں خود بھی اس میں شامل ہوں۔ یہ گھبراہٹ کی بات نہیں بلکہ قبولیت اور سکون کے ساتھ سوچنے کی بات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی تیز رفتار پیش قدمی سے کونسی ملازمتیں خطرے میں؟ بل گیٹس نے بتا دیا
سری دھر ویمبو نے مستقبل کے حوالے سے دو ممکنہ منظرنامے بیان کیے ایک خوش آئند جہاں ٹیکنالوجی انسانی مہارت کو زیادہ ضروری نہیں رکھے گی اور انسان اپنی زندگی پر توجہ دے سکے گا اور دوسرا مایوس کن ڈسٹاپین منظر، جس میں ٹیکنالوجی پر مرکزی کنٹرول ہوگا۔
واضح رہے کہ کئی ٹیکنالوجی کے ماہرین نے تسلیم کیا ہے کہ دستی طور پر کوڈنگ کا دور ختم ہونے والا ہے اور اے آئی کی تیز ترقی سے اقتصادی اور پیشہ ورانہ ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔














