پاکستان اور اردن نے تذویراتی اقتصادی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز کرتے ہوئے ایک تاریخی ترجیحی تجارتی معاہدے پر مشاورت شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
جبکہ تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینے کے لیے 16 ترجیحی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ پیش رفت پاکستان اور اردن کے مشترکہ وزارتی کمیشن کے 10ویں اجلاس کے دوران سامنے آئی، جو 4 اور 5 فروری کو اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے اردن کے شاہ عبداللہ دوم کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ سے نواز دیا
اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان کے وزیر تجارت جام کمال خان اور اردن کے وزیر صنعت، تجارت و سپلائی یعرب قضاۃ نے کی۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے ایک جامع پروٹوکول پر دستخط کیے، جس کا مقصد دہائیوں پر محیط سفارتی تعلقات کو ٹھوس اقتصادی، تجارتی اور ادارہ جاتی نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔
اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان اور اردن مستقبل میں نتیجہ خیز، عملی اور منظم اقتصادی تعاون کو فروغ دیں گے۔
Pakistan and Jordan have agreed to enhance collaboration in diverse sectors#News #BreakingNews #RadioPakistan https://t.co/b7jHr5nT6r
— Radio Pakistan (@RadioPakistan) February 5, 2026
دونوں فریقین نے ترجیحی تجارتی معاہدے پر باقاعدہ مشاورت شروع کرنے پر اتفاق کیا، جس کے تحت منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔
اس مقصد کے لیے تجارت و سرمایہ کاری سے متعلق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو پی ٹی اے مذاکرات اور عمل درآمد کی نگرانی کرے گا۔
کاروباری روابط کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان اردن بزنس کونسل کو فعال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، تاکہ بزنس ٹو بزنس تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور نجی شعبے کو اقتصادی شراکت داری میں مرکزی کردار دیا جائے۔
پروٹوکول کے تحت دونوں ممالک کے درمیان 16 ترجیحی شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی، جن میں تجارت، مالیات، صنعت، زراعت، حلال معیارات، توانائی، معدنیات اور صحت کے شعبے شامل ہیں۔
اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی، بحری امور، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن اور تعلیم جیسے اہم شعبوں میں بھی تذویراتی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔
ڈیجیٹل شعبے میں تعاون کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر بھی اتفاق کیا گیا، جس کا مقصد ڈیجیٹل اختراع اور آئی سی ٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی شاہ اردن سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان قریبی رابطہ کاری کے ذریعے بینکاری اور مالیاتی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ دوطرفہ تجارت کو سہولت فراہم کی جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کے باقاعدہ اجلاس اور منظم ادارہ جاتی طریقہ کار پاکستان اور اردن کے درمیان طویل المدتی اقتصادی انضمام اور شراکت داری کی بنیاد بنیں گے۔
واضح رہے کہ مشترکہ وزارتی کمیشن کا فریم ورک پہلی بار 1975 میں قائم کیا گیا تھا۔













