جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے اعلان کیا ہے کہ ازبکتسان و پاکستان کے درمیان 2 اضافی براہ راست پروازیں شروع کی جائیں گی جس سے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 6 ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کا نیا باب، 28 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط
ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے آئے ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف نے کہا کہ فلائٹس کی تعداد میں اضافے سے عوامی روابط، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو مزید سہولت میسر ہوگی۔
اس موقعے پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے اور اس شراکت داری کو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب پر مبنی ایک فطری اور پائیدار تعلق سمجھتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان روابط، تجارت اور عوامی سطح پر روابط کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔
صدر شوکت مرزیایوف کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان کا دورہ نتیجہ خیز اور مستقبل کی سمت متعین کرنے والا ثابت ہوگا۔
انہوں نے صدر مرزیایوف کو ایک وژنری رہنما قرار دیا جن کی قیادت میں ازبکستان ایک جدید اور خوشحال ملک کے طور پر ابھرا ہے اور جن کی علاقائی و عالمی امن کے لیے خدمات کو بھرپور سراہا جاتا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور ازبکستان کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں صدر مرزیایوف کے ذاتی کردار کو بھی سراہا۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان قدرتی شراکت دار ہیں اور دونوں کا مستقبل ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجارت، روابط، دفاع، سلامتی، ثقافت اور ورثے کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست فضائی روابط کو عوامی روابط کے فروغ کا اہم ذریعہ قرار دیا اور ازبکستان، افغانستان و پاکستان ریلوے منصوبے سمیت علاقائی روابط کے اقدامات کی اہمیت پر زور دیا جبکہ باقی چیلنجز کو مشترکہ کوششوں سے حل کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور ازبکستان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور، اسحاق ڈار کی ازبک صدر سے ملاقات
صدر زرداری نے حالیہ برسوں میں دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو تعلقات کی اصل معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے اور دوطرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے اقدامات تیز کرنے چاہییں۔
انہوں نے عوامی روابط، سیاحت اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور تاریخی و روحانی روابط کو بنیاد بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔
انہوں نے تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بینکوں سمیت مالیاتی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
اس موقعے پر صدر شوکت مرزیایوف نے کہا کہ ازبکستان پاکستان کے ساتھ دوستی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے مختلف سطحوں پر دوطرفہ روابط میں اضافے، تجارت کے فروغ، مشترکہ منصوبوں اور اقتصادی شعبوں میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اپنے متعلقہ وزیر کو پاکستانی ہم منصب کے ساتھ قریبی رابطے کی ہدایت کی۔
مزید پڑھیں: صدر زرداری قازقستان اور ازبکستان کے صدور کو نشانِ پاکستان عطا کریں گے
ازبک صدر نے سیاسی مکالمے کے فروغ، تجارت، معیشت اور سرمایہ کاری کے تعلقات مضبوط بنانے اور کاروباری روابط کو مزید فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے صدر آصف علی زرداری کو ازبکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
ملاقات کے دوران دونوں صدور نے علاقائی صورتحال، امن، استحکام اور سلامتی سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
اس سے قبل دونوں صدور کے درمیان ایک فرداً فرداً ملاقات ہوئی، جس میں اہم دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر گفتگو کی گئی۔ بعد ازاں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور ازبکستان اقتصادی شراکت داری میں تیزی، 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کی جانب پیشرفت
پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز احمد بگٹی، صنعت و پیداوار کے لیے خصوصی معاون ہارون اختر، سینیٹر سلیم منڈی والا، راجہ پرویز اشرف ایم این اے، سابق چیئرمین سینیٹ نیر بخاری، ازبکستان میں پاکستان کے سفیر اور سیکریٹری خارجہ شامل تھے۔
ازبک وفد میں صدر کے مشیر عبدالعزیز کاملوف، وزیر دفاع شخرت خلمخمدوف، وزیر سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لازیز قدرتوف، وزیر ٹرانسپورٹ الکھام مخکاموف، وزیر کان کنی و جیالوجی بوبیر اسلاموف، وزیر زراعت ابروخیم عبدالرخمانوف، وزیر ثقافت اوزبیک نظربیکوف، نائب وزیر خارجہ بخروُم الوئیف اور پاکستان میں ازبکستان کے سفیر علی شیر تختائیف شامل تھے۔
بعد ازاں ایک خصوصی تقریب میں صدرِ مملکت نے پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں صدر شوکت مرزیایوف کو نشانِ پاکستان سے نوازا۔
مزید پڑھیں: ازبکستان سے معاہدوں پر فوری عملدرآمد کی ہدایت، پاکستان کا صنعتی و سیاحتی تعاون بڑھانے کا اعلان
تقریب میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، وفاقی کابینہ کے اراکین، چیف آف دی ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، سفارتی کور اور ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔ اس کے بعد معزز مہمان کے اعزاز میں سرکاری ضیافت دی گئی۔














