اسلام آباد کے علاقے ترلائی کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کے ذمہ دار کی شناخت ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ترلائی کی مسجد میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
میڈیا رپورٹس کے مطابق بمبار نے افغانستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں کی تربیت حاصل کی جس کے لیے وہ متعدد بار افغانستان گیا۔
دہشتگرد گروہوں کا تعلق افغانستان سے
افغانستان میں موجود مختلف دہشتگرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان میں ہونے والی ہر دہشتگردانہ کارروائی کے پیچھے افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ موجود ہے۔
قوم کو حوصلہ مند قرار دیا
حکام کا کہنا ہے کہ پوری قوم ایسی مذموم اور بزدلانہ کارروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ثابت قدم ہے۔
حملے کی تفصیلات
یہ واقعہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں پیش آیا۔ نمازِ جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور نے مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن داخلے سے روکنے پر خود کو اڑا لیا۔
متاثرین اور ہنگامی اقدامات
دھماکے میں کم از کم 30 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کیا گیا۔
مزید پڑھیے: بنوں: ’کھلونا بم‘دھماکا، 2 لڑکے زخمی
علاوہ ازیں تمام اسپتالوں میں ہنگامی صورت حال نافذ کر دی گئی ہے۔














