پاکستان میں دہشتگردی کے تازہ واقعات کے پس منظر میں برگیڈیئر (ریٹائرڈ) آصف ہارون راجہ نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملے بھارت کی سرپرستی اور افغانستان کی سہولت کاری کے نتیجے میں کیے گئے۔ ان کے مطابق بی ایل اے نے بلوچستان کے 12 اضلاع میں مربوط حکمتِ عملی کے تحت عوامی مقامات کو نشانہ بنایا، مگر پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے دہشتگردوں کے عزائم ناکام کر دیے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد خودکش حملہ، محسن نقوی کی مکمل تحقیقات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کی ہدایت
بی ایل اے کے حملے اور پاک فوج کی جوابی کارروائی
برگیڈیئر آصف ہارون کے مطابق 31 جنوری کو بی ایل اے نے بلوچستان میں 12 مختلف مقامات پر حملے کیے، جن میں عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول دہشتگرد اتنے طاقتور نہیں کہ پاک فوج کے ساتھ براہِ راست مقابلہ کر سکیں۔ پاک فوج نے ایک گھنٹے کے اندر دہشتگردوں کو جواب دینا شروع کیا اور انہیں بیک فٹ پر ڈال دیا۔ بی ایل اے کی کل تعداد تقریباً 1500-1600 ہے، اور اس کارروائی میں 216 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جو بی ایل اے کی تقریباً 20 فیصد فوجی طاقت ہے۔
افغانستان اور بھارت کی شمولیت
برگیڈیئر آصف ہارون نے بتایا کہ یہ حملے افغانستان میں موجود سہولت کاروں اور بھارت کی سرپرستی کے تحت کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ نائن الیون کے بعد مغربی طاقتوں نے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش کی تھی، اور بھارت اس وقت شدید تذبذب کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد امام بارہ گاہ میں خود کش دھماکا بھارت کی سرپرستی میں کیا گیا، وزیر مملکت برائے داخلہ کی میڈیا سے گفتگو
انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان عالمی طاقتوں کی نظر میں ہے، اور ان علاقوں کی جیوسٹریٹجک اہمیت کی وجہ سے عالمی طاقتیں یہاں اپنی مداخلت کرتی ہیں۔
بلوچستان پر عالمی اور خطے کی نظریں
ریٹائرڈ بریگیڈیئر آصف ہارون کے مطابق بلوچستان کی جغرافیائی حیثیت، معدنی ذخائر، اور بین الاقوامی تجارت کے راستے اس خطے کو عالمی سطح پر اہم بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں اسرائیل کا بھی کردار ہے، جس کا مقصد بلوچستان میں اثرورسوخ قائم کرنا اور ایران کے بعض حصوں پر اپنی نظریں رکھنا ہے۔
انٹیلی جنس اور دہشتگردی کے عالمی پیٹرن
برگیڈیئر آصف ہارون نے کہا کہ دہشتگرد ہمیشہ وقت اور جگہ کے انتخاب میں آزاد ہوتے ہیں، اور انٹرنیشنل تجربہ بھی یہی کہتا ہے۔ انہوں نے انٹیلی جنس کی ناکامی کے الزام کو رد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عام غلط فہمی ہے، اور نائن الیون جیسے بڑے حملے بھی اسی پیٹرن کے تحت کیے گئے تھے۔













