دہشتگردی کے بڑھتے واقعات پر شاہد آفریدی کا شدید ردعمل

ہفتہ 7 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردانہ حملوں کے بعد اسلام آباد میں پیش آنے والے واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں کو مسلسل بربریت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جسے مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں شاہد آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے یہ واقعات ایک تسلسل کے ساتھ ہو رہے ہیں اور سوال یہ ہے کہ آخر کب تک صرف مذمتی بیانات اور ٹویٹس کے ذریعے حالات سے نمٹا جاتا رہے گا، جبکہ دہشتگردی کی لہر روز بروز شدت اختیار کر رہی ہے۔

انہوں نے ریاستِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بیرونی مداخلت کے جن ثبوتوں کا بارہا ذکر کیا جاتا ہے، انہیں قوم کے سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔

شاہد آفریدی نے زور دیا کہ قوم کو اعتماد میں لے کر دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے جو بھی اقدامات ضروری ہوں، وہ فوری طور پر کیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام مزید بے گناہ جانوں کے ضیاع کے متحمل نہیں ہو سکتے اور اب عملی اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا ایران کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، معاہدے کے کئی نکات طے پاچکے، ڈونلڈ ٹرمپ

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

ایران جنگ بندی پر بھارت میں بھی اعتراف کیا جارہا ہے کہ پاکستان کو سفارتی سطح پر کامیابی ملی، خواجہ آصف

سرمایہ کاروں کا پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر اعتماد، مستقبل میں کون سے ریکارڈ بن سکتے ہیں؟

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

ویڈیو

جو کوئی نہ کر سکا پاکستان نے کر دکھایا، بھارت میں صف ماتم

پاکستان کی عالمی سطح پر پذیرائی، گرین پاسپورٹ کو دنیا بھر میں عزت مل گئی

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟