قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نمازیوں اور عبادت گزاروں کو نشانہ بنانے والے عناصر اسلام، انسانیت اور پاکستان کے کھلے دشمن ہیں۔
یہ بیان قومی پیغامِ امن کمیٹی حکومتِ پاکستان کے کوآرڈینیٹر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، مفتی عبد الرحیم، مفتی محمد کریم خان، علامہ عارف حسین واحدی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، علامہ آصف میر، مولانا زاہد منصور، پیر نقیب الرحمن اور دیگر قائدین نے مشترکہ طور پر جاری کیا۔
فتنہ خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ فتنہ خوارج اور فتنہ ہندوستان کا اسلام اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، اور پوری قوم، علماء، مشائخ اور مذہبی قیادت ریاستِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد سانحہ، پی ٹی آئی کا وفاقی حکومت کی ناکامیوں پر استعفوں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ
قائدین نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی فتنہ خوارج اور دشمن قوتوں کے خلاف ریاستِ پاکستان کے تمام فیصلوں کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ پر حملہ بزدلانہ کارروائی
علماء و مشائخ نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں ہونے والے بم دھماکے کو بزدلانہ اور دہشتگردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے دہشتگرد اور ان کے سہولت کاروں کو نشانِ عبرت بنایا جانا چاہیے۔
قومی سلامتی اور یکجہتی پر حملہ
انہوں نے کہا کہ یہ حملہ نہ صرف معصوم عبادت گزاروں کے خلاف ہے بلکہ ملک کی سلامتی، امن اور قومی یکجہتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے ذریعے ہماری مذہبی اور سماجی اقدار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر قوم متحد ہو کر ان مذموم عزائم کو ناکام بنائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد: ترلائی کی امام بارگاہ میں دھماکا، 30 سے زیادہ افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے رہنماؤں نے شہداء کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
انہوں نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی فوری، شفاف اور مکمل تحقیقات کی جائیں اور اس بزدلانہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔













