اسلام آباد سانحہ اور قومی بے حسی

ہفتہ 7 فروری 2026
author image

اظہر لغاری

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کا یہ قول کہ جب کسی معاشرے کا سرمایہ اور توجہ جنگوں میں جھونک دی جائے تو تعلیم، صحت اور انسانی اقدار پسِ پشت چلی جاتی ہیں، آج کے پاکستان کی ایک تلخ مگر سچی تصویر پیش کرتا ہے۔ مسلسل تشدد، دھماکوں اور خونریزی کے ماحول نے ہمارے اجتماعی شعور کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ انسانی دکھ اور تکلیف اب ہماری روزمرہ زندگی کا ایک معمول بن کر رہ گیا ہے۔

پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشتگردی، داخلی بدامنی اور سیاسی کشمکش کا شکار رہا ہے۔ اس مسلسل عدم استحکام نے قوم کو نفسیاتی طور پر اس قدر تھکا دیا ہے کہ لوگ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے ہیں۔ شہادتوں کی خبریں اب صرف چند لمحوں کی افسوسناک سرخیاں بن کر رہ جاتی ہیں، جنہیں دیکھ کر لوگ اگلے ہی لمحے اپنی معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

یہ بے حسی صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور تہذیبی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ جب معاشرے میں تشدد معمول بن جائے تو انسان اپنی بقا کے لیے خود کو جذباتی طور پر محفوظ کرنے کی کوشش کرتا ہے، جس کا نتیجہ دوسروں کے دکھ سے لاتعلقی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں اجتماعی غم اور خوشی کا تصور کمزور پڑتا جا رہا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں اس بے حسی کے پیچھے ایک بڑی وجہ حکومتی اور سماجی ترجیحات کا عدم توازن بھی ہے۔ جب وسائل تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بجائے سیکیورٹی اور بحرانوں سے نمٹنے پر صرف ہوں تو معاشرہ فکری اور اخلاقی طور پر پیچھے رہ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں ترقی پسند سوچ کی جگہ شدت پسندی اور تنگ نظری کو فروغ ملتا ہے۔

میڈیا اور سوشل میڈیا نے بھی اس صورتحال کو کسی حد تک پیچیدہ بنا دیا ہے۔ مسلسل منفی خبروں کی بھرمار نے عوام کو ذہنی طور پر سن کر دیا ہے۔ لوگ ایک دھماکے یا سانحے کی خبر سن کر وقتی ردعمل تو دیتے ہیں مگر جلد ہی نئی خبروں کی بھیڑ میں وہ سانحہ اپنی اہمیت کھو دیتا ہے، جس سے اجتماعی ہمدردی کا جذبہ مزید کمزور ہو جاتا ہے۔

معاشرتی سطح پر بڑھتی ہوئی خود غرضی بھی اس بے حسی کو تقویت دے رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ نے لوگوں کو اپنی ذاتی بقا کی جنگ میں اس قدر الجھا دیا ہے کہ دوسروں کے دکھ درد کے لیے ان کے پاس نہ وقت بچا ہے اور نہ ہی جذباتی توانائی۔ یہ صورتحال معاشرتی رشتوں کو کمزور اور اجتماعی شعور کو مفلوج کررہی ہے۔

تعلیم کا فقدان بھی اس مسئلے کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو طلبہ میں انسان دوستی، برداشت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور پیدا نہ کر سکے، وہ معاشرے کو صرف ڈگری یافتہ افراد تو دے سکتا ہے مگر باشعور شہری نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں علم تو بڑھ رہا ہے مگر شعور اور حساسیت کم ہوتی جا رہی ہے۔

اس بے حسی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور معاشرہ اپنی ترجیحات کا ازسرنو تعین کریں۔ تعلیم، ذہنی صحت، سماجی انصاف اور انسانی اقدار کو فروغ دیے بغیر ہم ایک متوازن اور حساس معاشرہ تشکیل نہیں دے سکتے۔ ہمیں ایسے بیانیے کو فروغ دینا ہوگا جو انسان کو انسان کے قریب لائے اور اجتماعی دکھ کو مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کا شعور پیدا کرے۔

اگر پاکستانی قوم نے اس بڑھتی ہوئی بے حسی کا بروقت ادراک نہ کیا تو یہ رجحان معاشرتی ٹوٹ پھوٹ اور اخلاقی زوال کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ ہمیں بطور قوم یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف سانحات کے عادی بن کر جینا چاہتے ہیں یا ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں جہاں ہر انسان دوسرے کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھ کر اس کے ازالے کے لیے کھڑا ہو۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا شریف فیملی کے خلاف تمام نیب کیسز ختم ہوگئے اور عمران خان کے خلاف ابھی جاری ہیں؟

بنگلہ دیش نے برطانیہ سے پولیس اصلاحات اور روہنگیا مسئلے میں تعاون کی درخواست کردی

دبئی ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشن متاثر، ٹوکیو سے آنے والی ایمریٹس ایئرلائن کی پرواز بھارتی ایئرپورٹ پر اتری

کراچی: جسم فروشی کے لیے 33 خواتین کو بیرون ملک بھجوانے کی کوشش ناکام بنادی گئی

وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کردیا

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا