اپوزیشن کی جانب سے احتجاجی کال کے باوجود راولپنڈی میں تمام مارکیٹیں کھلی ہوئی ہیں اور مری روڈ، آئی جے پی روڈ، پشاور روڈ اور صدر مال روڈ پر ٹریفک معمول کے مطابق رواں دواں ہے۔ صدر، راجہ بازار اور کمرشل مارکیٹ سمیت اہم تجارتی مراکز کھلے رہے جبکہ تاجر تنظیموں اور ٹرانسپورٹرز نے شٹرڈاؤن اور پہیہ جام کی کال مسترد کر دی۔
صدر راولپنڈی سے فیض آباد تک ٹریفک کی روانی برقرار ہے، تاہم ممکنہ احتجاج کے پیش نظر مری روڈ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی ہدایات پر جڑواں شہروں میں چلنے والی میٹرو بس سروس صدر اسٹیشن تا پاک سیکرٹریٹ مکمل بند کر دی گئی ہے جبکہ راولپنڈی میں الیکٹرک اور گرین بس سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: 8 فروری احتجاج، اپوزیشن کی ہڑتال بے اثر، لاہور میں بسنت کا جشن عروج پر
دوسری جانب راولپنڈی پولیس نے شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کرتے ہوئے سخت انتظامات نافذ کر دیے ہیں۔ 4300 سے زائد افسران و اہلکار سکیورٹی اور ٹریفک ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں جبکہ تمام سینئر افسران فیلڈ میں موجود رہ کر صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ شہر کے 82 مقامات پر خصوصی پکٹس قائم کی گئی ہیں اور داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا عمل جاری ہے۔
راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے اور اس پر من و عن عملدرآمد یقینی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ کسی بھی مقام پر غیر قانونی اجتماع، دھرنے یا ریلی کی اجازت نہیں جبکہ ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد ہے۔ تھانوں کی موبائلز، ایلیٹ فورس اور ڈولفن ٹیمیں مسلسل گشت کر رہی ہیں اور سیف سٹی سمیت دیگر کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔
سی پی او کے مطابق شہریوں کے معمولات زندگی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جبکہ ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی شرانگیزی یا قانون شکنی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔













