فروری کو انتخابی دھاندلی کے دو سال مکمل ہونے کے موقع پر جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر منعقد کی جانے والی عوامی پریس کانفرنس کے دوران پولیس کارروائی اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی گرفتاری پر امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سخت ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی: پولیس کا جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر دھاوا، رکن سندھ اسمبلی سمیت متعدد رہنما گرفتار
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ 8 فروری کو انتخابی دھاندلی کے 2 سال مکمل ہونے پر جماعت اسلامی کراچی کے تحت الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر عوامی پریس کانفرنس کا اہتمام کیا گیا تھا، تاہم پریس کانفرنس کے دوران جماعت اسلامی کے دسیوں کارکنان اور ذمہ داران کو گرفتار کر لیا گیا۔
8 فروری کے انتخابات میں دھاندلی کیخلاف جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن کے باھر پریس کانفرنس پولیس نے روک دی کیمپ اکھاڑ دیا اور رکن صوبائی اسمبلی فاروق فرحان اور کراچی کے قائمقام امیر مسلم پرویز سمیت کئی کارکن گرفتار ، تھانے منتقل pic.twitter.com/gcWFeAEDmC
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) February 8, 2026
انہوں نے کہا کہ رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، قائم مقام امیر جماعت اسلامی مسلم پرویز سمیت متعدد کارکنان کی گرفتاری پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کی فسطائیت کا واضح مظہر ہے۔ منعم ظفر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے پولیس کے ذریعے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی آواز کو دبانے کی کوشش کی، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، اسی لیے کارکنان سے اپیل ہے کہ وہ ہر صورت پُرامن رہیں اور جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر ادارہ نور حق پہنچیں۔
یہ بھی پڑھیں:صوبائی اسمبلیاں اجازت دیتی ہیں تو نئے صوبے بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں، جماعت اسلامی کراچی
انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ نور حق میں مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا اور جماعت اسلامی جمہوری حق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
واضح رہے کہ آج کراچی میں الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے سامنے جماعت اسلامی کی جانب سے منعقد کی جانے والی عوامی پریس کانفرنس کے دوران پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے قائم مقام امیر مسلم پرویز، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق سمیت متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کرلیا ہے۔

گرفتار ہونے والوں میں جماعت اسلامی کے کارکنان انس خان، ابتسام عبرت، عبد الحمید، خالد قریشی، محمد امجد کے علاوہ امرائے اضلاع سفیان دلاور، مدثر حسین انصاری اور دیگر ذمہ داران بھی شامل ہیں۔ گرفتاریوں کا عمل اس وقت شروع کیا گیا جب الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے عوامی پریس کانفرنس جاری تھی۔
مزید پڑھیں: تحریک تحفظ آئین پاکستان کا ملک گیر احتجاج، محمود خان اچکزئی منظرِ سے غائب
قبل ازیں پولیس اور انتظامیہ نے جماعت اسلامی کو پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا تھا، جبکہ عوامی پریس کانفرنس کے لیے لگایا گیا کیمپ بھی اکھاڑ دیا گیا۔













