بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابقہ عوامی لیگ حکومت کے دور میں قائم کیے گئے سیاسی نوعیت کے ہزاروں مقدمات واپس لینے کی سفارش کر دی ہے، جس سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان سمیت لاکھوں افراد کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش عام انتخابات: فوج اور سیکیورٹی اداروں کی 14 روز کے لیے تعیناتی
بنگلہ دیش کی وزارتِ قانون نے اعلان کیا ہے کہ عبوری حکومت نے سیاسی بنیادوں پر قائم 23 ہزار 865 مقدمات واپس لینے کی سفارش کی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ مقدمات سابقہ عوامی لیگ حکومت کے دور میں دائر کیے گئے تھے اور ان سے تقریباً 5 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔
وزارتِ قانون کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات زیادہ تر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف قائم کیے گئے تھے، جن میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)، جماعتِ اسلامی، حفاظتِ اسلام اور گانو ادھیکار پریشد شامل ہیں۔ یہ مقدمات جولائی میں ہونے والی عوامی تحریک سے قبل کے عرصے میں درج کیے گئے تھے، جس کے نتیجے میں سابق حکومت کا خاتمہ ہوا۔

حکام کے مطابق متاثرہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے درخواستیں جمع کرائی گئی تھیں، جن کے بعد ایک بین الوزارتی کمیٹی نے 39 اجلاسوں میں مقدمات کا جائزہ لیا۔ ان اجلاسوں کے دوران یہ طے کیا گیا کہ کون سے مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں اور کنہیں واپس لیا جا سکتا ہے، تاہم جانچ پڑتال کا عمل تاحال جاری ہے۔
وزارتِ قانون کے مطابق ستمبر 2024 میں عبوری حکومت نے ضلعی سطح پر کمیٹیاں قائم کی تھیں، جن کی سربراہی ڈپٹی کمشنرز کر رہے ہیں، جبکہ ایک بین الوزارتی کمیٹی قانون کے مشیر آصف نذرل کی قیادت میں کام کر رہی ہے۔ ان کمیٹیوں کو 6 جنوری 2009 سے 5 اگست 2024 تک قائم کیے گئے مقدمات کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے انتخابات سے متعلق ہلاکتوں کی رپورٹ بےبنیاد قرار
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد قانونی نظام کے مبینہ سیاسی استعمال کا ازالہ کرنا اور آئندہ عام انتخابات سے قبل عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ مزید مقدمات بھی واپس لینے کی سفارشات سامنے آ سکتی ہیں۔














