بالی ووڈ کے معروف اداکار راجپال یادو کو دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے آخری لمحے میں دائر کی گئی درخواست مسترد ہونے کے بعد تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک طویل عرصے سے زیرِ سماعت 9 کروڑ روپے کے چیک باؤنس اور قرض کی عدم ادائیگی کے مقدمے میں کی گئی، جس میں عدالت نے انہیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ معاملہ سال 2010 کا ہے جب راجپال یادو نے اپنی فلم ’اتا، پتہ، لاپتہ‘ کی پروڈکشن کے لیے تقریباً 5 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا تھا۔ بعد ازاں سود، جرمانوں اور تاخیر کی وجہ سے واجب الادا رقم بڑھ کر تقریباً 9 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے اداکار کی جانب سے جاری کیے گئے متعدد چیک باؤنس ہو گئے جس پر چیک ڈس آنر کے تحت فوجداری کارروائی عمل میں آئی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے مشہور مزاحیہ اداکار راجپال یادیو قرض نہ چکانے پر پھر مشکل میں پڑگئے
دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران اس امر کا سخت نوٹس لیا کہ راجپال یادو کو گزشتہ کئی برسوں میں عدالت کی جانب سے رقم کی ادائیگی کے لیے بارہا مہلت دی گئی تاہم وہ عدالت کو دی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد میں ناکام رہے۔ عدالت نے ریکارڈ پر موجود تقریباً 20 مختلف عدالتی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے رویے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
4 فروری 2026 کو عدالت نے مزید مہلت کے لیے دائر کی گئی درخواست مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ قانون عدالتی احکامات کی پاسداری کو ترجیح دیتا ہے نہ کہ ان کی خلاف ورزی کو۔ عدالت نے اداکار کے طرزِ عمل کو ’قابلِ مذمت‘ قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ شہرت یا فلمی پس منظر کسی بھی فرد کو خصوصی رعایت کا حق نہیں دیتا۔
یہ بھی پڑھیں: چیک باؤنس کیس: بالی ووڈ اداکار راجپال یادو کی درخواست ضمانت مسترد، کیا اب جیل جانا پڑے گا؟
عدالتی حکم کے بعد راجپال یادو نے 5 فروری 2026 کو تہاڑ جیل میں خود کو حکام کے حوالے کر دیا جہاں انہوں نے چھ ماہ کی سزا کا آغاز کیا۔ اس سے قبل ان کے وکیل کی جانب سے 25 لاکھ روپے کا نیا چیک اور ادائیگی کا نیا شیڈول پیش کیا گیا تاہم عدالت نے سرنڈر کے حکم کو واپس لینے سے انکار کر دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق جیل کی سزا اداکار کی مالی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی اور راجپال یادو بدستور بقایا رقم کی ادائیگی کے پابند رہیں گے۔ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ ریلیف کا انحصار عدالت کے احکامات پر مکمل عمل درآمد اور قابلِ عمل ادائیگی منصوبے پر ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: کپل شرما کو قتل کی دھمکی: بھارتی پولیس نے پاکستان کا نام لے لیا
یہ معاملہ عدالتی نظام کی جانب سے اس مؤقف کی واضح مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام افراد برابر ہیں اور عدالتی احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔














