اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز کاروبار کا آغاز زبردست تیزی کے ساتھ ہوا، جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے ابتدائی چند منٹوں میں ہی 1,400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔
صبح 9 بج کر 40 منٹ پر کے ایس ای 100 انڈیکس 185,590.50 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، جو 1,460.92 پوائنٹس یعنی 0.79 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، ابتدائی کاروبار میں 700 پوائنٹس کا اضافہ
کاروبار کے دوران آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اورریفائنری کے شعبوں میں نمایاں خریداری دیکھی گئی۔
او جی ڈی سی، ماری انرجیز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، پاکستان آئل فیلڈزلمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل، ایس این جی پی ایل، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک، میزان بینک اور یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ سمیت انڈیکس پر بھاری وزن رکھنے والے شیئرز سبز زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
PSX Opened Positive 🚀
☀️ KSE 100 opened positive by +1359.98 points this morning. Current index is at 185,489.56 points (9:45 AM) pic.twitter.com/2DupnGe6mj— Investify Pakistan (@investifypk) February 9, 2026
ادھر، میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان رواں ہفتے کے آغاز میں اعلیٰ سطحی دو طرفہ مذاکرات متوقع ہیں، جن میں تجارت، سرمایہ کاری سمیت بین الاقوامی اور دوطرفہ امور پر بات چیت کی جائے گی۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جس کی وجہ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، ملکی بانڈ ییلڈز میں اضافہ، بیرونی تجارتی چیلنجز اور مختلف شعبوں کی ملی جلی کارکردگی رہی۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ دباؤ کا شکار، انڈیکس میں 924 پوائنٹس کی کمی
تاہم، ان تمام عوامل کے باوجود کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر تقریباً بغیر کسی نمایاں تبدیلی کے بند ہوا، جو خطرات اور بعض شعبوں میں استحکام کے درمیان توازن کی عکاسی کرتا ہے۔
کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیاد پر معمولی کمی کے ساتھ 184,129.58 پوائنٹس پر بند ہوا، جو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر 184,174.48 پوائنٹس کے مقابلے میں 44.90 پوائنٹس کم تھا۔

عالمی سطح پر، پیر کے روز ایشیائی مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھی گئی، جہاں جاپان کی وزیر اعظم سانی تاکائیچی کی واضح انتخابی کامیابی نے مزید ری فلیشنری پالیسیوں کی توقعات کو تقویت دی۔
اسی طرح امریکا میں چپ اسٹاکس میں آخری لمحات میں آنے والی بحالی پر سرمایہ کاروں نے اطمینان کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: نئے سال کا شاندار آغاز، اسٹاک مارکیٹ 176 ہزار پوائنٹس کی تاریخ ساز بلندی پر
چپ اسٹاکس میں تیزی اور کمزور پڑنے والے مومینٹم شیئرز، جن میں چاندی بھی شامل ہے، میں خریداری نے مارکیٹ کے جذبات کو سہارا دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مزید شرح سود میں کمی کی توقعات نے بھی اعتماد بڑھایا۔
اب جون تک شرح سود میں کمی کو یقینی تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ رواں ہفتے روزگار، مہنگائی اور اخراجات سے متعلق اہم معاشی اعداد و شمار متوقع ہیں، جو معاشی محرک کے حق میں دلائل کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سال 2025 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے لیے کیسا رہا اور 2026 میں کیا رجحان رہے گا؟
جاپان کا نکی انڈیکس 4.4 فیصد اضافے کے ساتھ نئی تاریخی بلندیوں پر پہنچ گیا، کیونکہ حکومت کو واضح اکثریت حاصل ہونے سے اخراجات میں اضافے اور ٹیکسوں میں کمی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
تاہم، زیادہ قرض لینے کے امکانات کے باعث جاپان میں 2 سالہ بانڈ ییلڈ 1.3 فیصد تک پہنچ گئی، جو 1996 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک خطے کے حصص پر مشتمل وسیع انڈیکس 2.2 فیصد بڑھا، جبکہ جنوبی کوریا کا ٹیکنالوجی سے بھرپور انڈیکس 4.3 فیصد اوپر چلا گیا۔














