ابھرتی ہوئی منڈیوں کی معیشتوں سے متعلق ’العلاء کانفرنس 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن کا آج سعودی عرب کے گورنریٹ العلاء میں آغاز ہو گیا۔ یہ کانفرنس وزارتِ خزانہ سعودی عرب اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اشتراک سے منعقد کی جا رہی ہے۔
کانفرنس میں سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان، آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا، مختلف ممالک کے وزرائے خزانہ، مرکزی بینکوں کے گورنرز، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے سربراہان اور عالمی ماہرینِ معیشت شریک ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: شام کی معیشت کی بحالی: سعودی عرب کا بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کا اعلان
2 روزہ کانفرنس کا عنوان ’بین الاقوامی تجارتی اور مالیاتی نظام کی ازسرِ نو تشکیل کے دوران پالیسی اقدامات‘ رکھا گیا ہے۔ اس میں عالمی معیشت میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے نتیجے میں ابھرتی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور مواقع کا جائزہ لیا جا رہا ہے، خصوصاً بین الاقوامی تجارت، مالیاتی و مانیٹری نظام اور میکرو اکنامک پالیسی کے تناظر میں۔
شرکا نے بڑھتے ہوئے اقتصادی چیلنجز، عالمی تقسیم اور غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کثیرالجہتی بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کی معاونت کے لیے بین الاقوامی شراکت داری پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ پاکستان ملکی معیشت کے لیے اہم کیوں ہے؟
کانفرنس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ان اجلاسوں کا مقصد اقتصادی پالیسیوں سے متعلق عملی تجربات کا تبادلہ اور ایسے قابلِ عمل حل پر توجہ دینا ہے جو عوامی مفاد میں ہوں اور عالمی معیشت میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کے مقابلے میں ابھرتی معیشتوں کے اجتماعی و انفرادی ردعمل کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں۔













