مشعل پاکستان، جو ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کا کنٹری پارٹنر انسٹیٹیوٹ ہے، نے پاکستان ریفارمز رپورٹ 2026 کا اجرا کیا۔ یہ رپورٹ پاکستان میں گورننس اصلاحات کی سب سے جامع دستاویز بندی پیش کرتی ہے، جس میں 2025 کے دوران 135 وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور منسلک اداروں میں 600 سے زائد اصلاحات ریکارڈ کی گئی ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 گنا زیادہ ہیں۔
مزید پڑھیں: معاشی اصلاحات اور ترقیاتی تعاون پر وزیراعظم اور صدرعالمی بینک کا اتفاق
رپورٹ کے مطابق اصلاحات کا زیادہ تر دائرہ توانائی، قانون و انصاف، اور ڈیجیٹل گورننس و آئی ٹی شعبوں پر مرکوز ہے، اور 200 سے زائد اقدامات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نافذ کیے جا چکے ہیں، جس سے شفافیت میں اضافہ اور صوابدیدی اختیارات میں کمی آئی ہے۔
مالیاتی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے نتیجے میں پاور سیکٹر میں 1.4 ٹریلین روپے کی بچت متوقع ہے، جبکہ معدنی وسائل اور توانائی کی نئی پالیسیوں کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے اہداف بھی شامل ہیں۔
تقریبِ اجرا میں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے حکومت کے عزم کو دہرایا، اور وزیر اطلاعات نے کہا کہ شفاف اور حقائق پر مبنی اصلاحاتی رپورٹنگ عوامی اعتماد بڑھاتی ہے اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پاکستان کی ساکھ مضبوط کرتی ہے۔
مشعل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر جہانگیر نے کہا کہ رپورٹ اصلاحات کی بڑھتی ہوئی پختگی، عمل درآمد، ڈیجیٹلائزیشن اور نظام سازی کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ شریک بانی پوریش چوہدری نے کہا کہ رپورٹ شہریوں، محققین اور مستقبل کے پالیسی سازوں کو ریاستی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف، حکومت نے کونسی قابل تعریف معاشی اصلاحات کی ہیں؟
رپورٹ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اصلاحات کی بڑی تعداد اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی ہدف 16 (امن، انصاف اور مضبوط ادارے) سے ہم آہنگ ہے، اور یہ پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط کرنا اصلاحات کی مرکزی ترجیح ہے۔
مشعل پاکستان کا مقصد قومی مکالمے کو وقتی اعلانات سے ہٹا کر شفاف اور شواہد پر مبنی گورننس کے ارتقا کی سمت میں لے جانا ہے تاکہ طویل المدتی اصلاحاتی پیشرفت کی نگرانی ممکن ہو سکے۔














