بھاٹی گیٹ لاہور میں ماں اور بیٹی کے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے میں مدعیان نے ملزمان کو اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لیے معاف کر دیا، اس پیشرفت کے بعد عدالت نے صلح کی بنیاد پر گرفتار ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ: متوفیہ کے شوہر کی حراست اور مبینہ تشدد پر ایس ایچ او معطل
جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے کیس کی سماعت کی، جہاں مدعی نے عدالت میں بیان دیا کہ وہ ملزمان کے خلاف مزید قانونی کارروائی نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی انہیں بری یا مقدمے سے ڈسچارج کرنے پر کوئی اعتراض ہے۔
عدالت نے فریقین کے درمیان صلح کو تسلیم کرتے ہوئے گرفتار 5 ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔
سادہ کاغذ پر انگوٹھے لگوانے کے الزامات
اس سے قبل اس کیس میں اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی تھی جب متاثرہ خاندان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ مقدمے کے مدعی خاتون کے والد ساجد حسین سے زبردستی سادہ کاغذ پر دستخط اور انگوٹھے لگوائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر
اس حوالے سے تھانے میں انگوٹھا لگوانے کے بعد کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی۔
ورثا کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار انہیں مجبور کرکے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوا کر لے گئے، جس پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
واقعے کا پس منظر
چند روز قبل بھاٹی گیٹ کے علاقے میں ایک ماں اپنی بیٹی سمیت کھلے سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔
ابتدائی طور پر انتظامیہ پر الزام لگا کہ اس نے واقعے کو دبانے اور میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی اور ماں بیٹی کے گرنے کی اطلاعات کو غلط قرار دیا۔
انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ تکنیکی طور پر اس ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا ممکن نہیں، دوسری جانب پولیس نے بھی ابتدائی مرحلے پر واقعے کو گھریلو جھگڑے کا رخ دینے کی کوشش کی اور شوہر کے خلاف بیوی سے تنازع اور سنگین الزامات پر مبنی رپورٹ مرتب کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: پولیس نے تشدد کیا اور قتل کا اعتراف کرانے کی کوشش کی،شوہر کا الزام
بعد ازاں شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو حراست میں لینے کی اطلاعات سامنے آئیں، تاہم بعد میں پولیس نے کسی کو حراست میں لینے کی تردید کر دی۔
اس معاملے پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے پروجیکٹ ڈائریکٹر، منیجر اور کنسلٹنٹ کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔













