بھاٹی گیٹ سانحہ: متوفیہ کے شوہر کی حراست اور مبینہ تشدد پر ایس ایچ او معطل

جمعہ 30 جنوری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے کے بعد متوفیہ کے شوہر کو حراست میں لینے اور مبینہ تشدد کی اطلاعات پر پولیس میں اعلیٰ سطحی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

واقعے پر غفلت اور غیر مناسب پولیس ردِعمل کے الزامات کے بعد ایس ایچ او زین عباس کو معطل کر دیا گیا جبکہ متعلقہ ڈی ایس پی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: پولیس نے تشدد کیا اور قتل کا اعتراف کرانے کی کوشش کی،شوہر کا الزام

میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کے مجموعی ردِعمل اور ذمہ داریوں کے تعین کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں ایس پی سطح کے افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعے کی آزادانہ محکمانہ انکوائری کے لیے باقاعدہ خط جاری کر دیا ہے۔

ڈی آئی جی کے مطابق انکوائری میں اس امر کا تعین کیا جائے گا کہ متوفیہ کے شوہر اور دیور کو حراست میں لینے کی وجوہات کیا تھیں۔

مزید پڑھیں: بھاٹی گیٹ سانحہ: وزیر اطلاعات پنجاب سمیت افسران کیخلاف مقدمے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر

دوسری جانب ریسکیو کال موصول ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے گرفتاری کے اقدام کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 2 روز قبل داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی کمسن بیٹی کھلے سیوریج مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھیں۔

ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے واقعے کی تردید کرتے رہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا گیا،

مزید پڑھیں:لاہور سیوریج لائن حادثہ: کتنے ترقیاتی منصوبے حفاظتی اقدامات کے بغیر جاری ہیں؟

تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد دونوں کی لاشیں جائے وقوعہ سے تقریباً 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔

لاشوں کی برآمدگی کے بعد متوفیہ کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد پروجیکٹ مینیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج دانیال اور سائٹ انچارج احمد نواز کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp