چین میں انسانی شکل کے روبوٹ نئے سال کے تہوار کی تفریح کے لیے پیش کیے جارہے ہیں، جہاں ان کے بنانے والے ان کی گانے، رقص اور دیگر مہارتیں عوام، سرمایہ کاروں اور حکومتی اہلکاروں کے سامنے دکھا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چین : کنسرٹ میں گلوکار کے ساتھ ناچتے روبوٹس نے انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی
شنگھائی کی روبوٹ سازی کی کمپنی ایگی بوٹ نے اتوار، 8 فروری 2026 کو تقریباً ایک گھنٹے پر محیط شو کو براہِ راست نشر کیا، جس میں روبوٹز نے رقص کیا، جسمانی کرتب دکھائے، جادوئی مظاہرے کیے، گانے کی ہم آہنگی میں حصہ لیا اور کامیڈی کے مناظر پیش کیے۔
تقریب کے دوران دیگر ایگی بوٹ روبوٹز سامعین کی نشستوں سے ہاتھ ہلا رہے تھے۔
چینی آن لائن نشر کرنے والے پلیٹ فارم پر اندازاً 1.4 ملین افراد نے یہ شو دیکھا۔ ایگی بوٹ نے اس شو کو دنیا کی پہلی روبوٹ گالا قرار دیا، تاہم اس نے فوری طور پر کل ناظرین کی تعداد کا اندازہ نہیں دیا۔
یہ شو چین کے سالانہ بہار کے تہوار کے گالا سے ایک ہفتہ قبل پیش کیا گیا، جو ریاستی ٹیلی ویژن پر نشر کیا جائے گا۔ یہ موقع چینی روبوٹ بنانے والوں کے لیے اپنی مہارت دکھانے کا اہم موقع بن چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس کا فٹبال میچ، انسانی ٹیموں سے زیادہ جوش و خروش پیدا کرگیا
پچھلے سال 16 مکمل سائز انسان نما روبوٹز نے انسانی رقاصوں کے ساتھ چین سینٹرل ٹیلی ویژن کے گالا میں کارکردگی دکھائی، جس سے لاکھوں ناظرین دنگ رہ گئے۔
اس سال کے گالا میں چار انسان نما روبوٹ بنانے والی کمپنیاں، یونٹری، گلبوٹ، نوٹکس اور میجک لیب حصہ لیں گی۔ ایگی بوٹ کی گالا میں 200 سے زیادہ روبوٹز نے حصہ لیا اور اسے چینی آن لائن پلیٹ فارمز اور ٹیلی ویژن چینلز پر براہِ راست نشر کیا گیا۔

فوٹوگرافر اور مصنف ما ہونگ یون نے کہا کہ جب روبوٹ نئے سال کو سمجھنے لگیں اور مزاح کا احساس پیدا کریں تو انسان اور روبوٹ کے تعلقات توقع سے جلد بہتر ہو سکتے ہیں۔
ایگی بوٹ کے روبوٹ تعلیم، تفریح اور فیکٹریوں میں استعمال کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور کمپنی ہانگ کانگ میں عوامی پیشکش کی تیاری کر رہی ہے، ریاستی میڈیا کے مطابق ایگی بوٹ نے تحقیق اور ترقی پر توجہ دینے کے لیے گالا میں حصہ نہیں لیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں روبوٹس کی انسانوں کے ساتھ ریس کے دلچسپ مناظر
چین کی روبوٹ سازی کی صنعت دنیا میں جدت اور تفریح کے نئے دور کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ امریکی ارب پتی ایلون مسک نے بھی اپنی کمپنی کے روبوٹ کے ذریعے روبوٹ سازی میں مقابلہ بڑھایا ہے۔











