چین میں روبوٹس کی انسانوں کے ساتھ ریس کے دلچسپ مناظر

اتوار 20 اپریل 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں منعقدہ یِژوانگ ہاف میراتھن میں انسان نما 21 روبوٹس نے ہزاروں انسانوں کے ساتھ دوڑ میں حصہ لیا، یہ پہلا موقع ہے جب مشینوں نے انسانوں کے ساتھ 21 کلومیٹر (13 میل) ریس میں شرکت کی۔

چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں، ڈروئیڈ وی پی اور نوئٹکس روبوٹکس جیسی چینی کمپنیوں کے تیار کردہ روبوٹس مختلف شکلوں اور جسامتوں میں دوڑتے ہوئے نظر آئے،کچھ کا قد 120 سینٹی میٹر (3.9 فٹ) سے بھی کم تھا جب کہ کچھ کا قد 1.8 میٹر (5.9 فٹ) تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت میں نیا انقلاب: مکمل زندگی کی ساتھی روبوٹک گرل آریا

ایک کمپنی کا روبوٹ تقریباً انسان جیسا دکھائی دیتا ہے، نسوانی خدوخال رکھتا ہے اور آنکھ مارنے اور مسکرانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

 بیجنگ کے حکام نے اس ایونٹ کو ریس کار مقابلے سے زیادہ مشابہ قرار دیا، کیوں کہ اس میں انجینیئرنگ اور نیویگیشن ٹیموں کی موجودگی ضروری تھی۔

مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ہی سیشو نے کہا ’روبوٹس بہت اچھا دوڑ رہے ہیں، بہت مستحکم ہیں۔ مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کی ارتقا کا منظر دیکھ رہا ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیں: چیٹ بوٹس سے رومانس کی خواہش انسان کو کہاں لے جارہی ہے!

ریس میں حصہ لینے والے روبوٹس کے ساتھ انسانی تربیت کار بھی موجود تھے جن میں سے بعض نے دوڑ کے دوران مشینوں کو جسمانی طور پر اسپورٹ کی۔

کچھ روبوٹس نے دوڑنے والے جوتے پہن رکھے تھے۔ ایک نے باکسنگ کے دستانے پہنے ہوئے تھے اور ایک نے سر پر سرخ رنگ کی پٹی رکھی تھی جس پر چینی زبان میں لکھا تھا ’جیتنا طے ہے‘۔

کچھ روبوٹوں نے دوڑ مکمل کر لی جب کہ کچھ ابتدا ہی سے مشکلات کا شکار رہے۔ ایک روبوٹ شروع میں ہی گر گیا اور چند منٹ تک زمین پر سیدھا لیٹا رہا، پھر اٹھا اور دوڑ پڑا،ایک دوسرا روبوٹ چند میٹر دوڑنے کے بعد ریلنگ سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں اس کا انسانی آپریٹر بھی گر پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ جی پی ٹی سے ’بریک اپ‘ لیٹر لکھوانا کتنا مہنگا پڑسکتا ہے؟

اگرچہ گزشتہ ایک سال کے دوران چین میں انسان نما روبوٹس مختلف میراتھن مقابلوں میں دکھائی دیتے رہے ہیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے جب انہوں نے انسانوں کے ساتھ دوڑ میں براہ راست حصہ لیا اور انسانوں کے ساتھ مقابلے میں دوڑے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp