بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات سے قبل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ملک بھر میں تقریباً 3 ہزار مسلح جرائم پیشہ افراد اور مشتبہ عناصر کی فہرست تیار کر لی ہے، جن میں 352 افراد کو ’شوٹرز‘ کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ فہرست 2 انٹیلی جنس اداروں نے مرتب کر کے پولیس ہیڈکوارٹرز کو ارسال کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام انتخابی تشدد کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر کا حصہ ہے اور اس کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں، بلکہ مقصد پرامن اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا کے اسسٹنٹ سیکریٹری پال کپور کا انتخابات کے بعد بنگلہ دیش کے متوقع دورے کا امکان
پولنگ سے 5 روز قبل منشی گنج میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے ایک امیدوار اور باغی امیدوار کے حامیوں کے درمیان تصادم کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ جھڑپوں کے دوران اسلحہ استعمال کیا گیا اور پولیس نے فائرنگ میں ملوث 4 افراد کی نشاندہی کی۔ ان میں سے ایک، اکرم دیوان، مبینہ طور پر معروف ’شوٹر‘ ہے تاہم پیر تک اسے گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق فہرست میں شامل نمایاں جرائم پیشہ افراد میں شیخ محمد اسلم المعروف ’سویڈن اسلم‘ بھی شامل ہے، جس پر متعدد قتل کے مقدمات درج ہیں۔ وہ تقریباً 2 دہائیاں جیل میں گزارنے کے بعد 2024 میں ضمانت پر رہا ہوا تھا۔ اسی طرح ’رونی‘ نامی ملزم، جو گزشتہ نومبر پرانے ڈھاکا میں گینگ سے متعلق ایک قتل کے بعد سے مفرور ہے، بھی فہرست میں شامل ہے۔
سینیئر پولیس حکام کے مطابق فہرست میں مسلح جرائم پیشہ افراد، کرائے کے قاتل، شدت پسند، مفرور ملزمان اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس سے وابستہ افراد شامل ہیں۔ ان میں سے متعدد کے خلاف قتل، بھتہ خوری، اغوا، غیر قانونی قبضہ اور اسلحہ سے متعلق مقدمات درج ہیں۔ مجموعی طور پر 124 افراد کالعدم شدت پسند تنظیموں کے ارکان کے طور پر شناخت کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کی انتخابی مہم کے دوران وکیل کی جانب سے رقم دینے کی ویڈیو پر تنقید
پولیس ہیڈکوارٹرز نے تمام 64 اضلاع کے ضلعی پولیس سربراہان اور 8 میٹروپولیٹن پولیس یونٹس کے کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ فہرست میں شامل افراد کی نگرانی، گرفتاری یا کڑی نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ خصوصاً مفرور اور ضمانت پر رہا ملزمان پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
پولیس ہیڈکوارٹرز کے ترجمان اے ایچ ایم شہادت حسین نے کہا کہ ’ہم مجرمانہ ریکارڈ اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کر رہے ہیں تاکہ انتخابات کے دوران کسی بھی قسم کے تشدد یا تخریب کاری کو روکا جا سکے۔ یہ غیر جانبدار، قانونی اور احتیاطی اقدام ہے جس کا واحد مقصد آزاد، منصفانہ اور پرامن انتخابات کا انعقاد ہے‘۔
ڈھاکا میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق تھانوں اور ڈٹیکٹو یونٹس کو مشترکہ طور پر متحرک کیا گیا ہے تاکہ مسلح گروہوں کو پولنگ کے عمل میں خلل ڈالنے سے روکا جا سکے۔ حکام نے خاص طور پر ان شدت پسند عناصر پر تشویش ظاہر کی ہے جو حراست سے فرار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
پولیس اعداد و شمار کے مطابق ڈھاکا میں 115 مسلح جرائم پیشہ افراد سرگرم ہیں، جبکہ چٹاگانگ، سلہٹ، راجشاہی، کھلنا اور دیگر بڑے شہروں میں بھی قابلِ ذکر تعداد موجود ہے۔ مجموعی طور پر تقریباً 2,500 مشتبہ افراد میٹروپولیٹن علاقوں سے باہر اضلاع میں موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: الیکشن کمیشن بنگلہ دیش نے پولنگ اسٹیشنز کے احاطے میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی واپس لے لی
انسپکٹر جنرل آف پولیس بہارال عالم نے کہا کہ فہرستوں کو مرحلہ وار اپڈیٹ کر کے ملک بھر میں شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی اسلحہ عمومی خطرہ ہے، تاہم انتخابات کے دوران سب سے بڑا خدشہ مفرور اور روپوش شدت پسند عناصر سے ہے، اسی لیے ان کی گرفتاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں سیاسی تشدد اور جرائم پیشہ عناصر کی انتخابی عمل میں مداخلت کے واقعات کے پیش نظر یہ اقدامات ناگزیر اور احتیاطی نوعیت کے ہیں۔














