بنگلہ دیش کے ایک سینیئر وکیل اس وقت تنقید کی زد میں ہیں جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ انتخابی مہم کے دوران ایک شخص کو نقد رقم دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
فیس بک پر گردش کرنے والی ویڈیو میں سپریم کورٹ کے وکیل اے ایس ایم شہریار کبیر کو ڈھاکا کے حلقہ ڈھاکا-15 میں ایک پان اور سگریٹ فروش سے گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق وہ جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمٰن کے حق میں انتخابی مہم چلا رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے: الیکشن کمیشن بنگلہ دیش نے پولنگ اسٹیشنز کے احاطے میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی واپس لے لی
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہریار کبیر دکاندار سے ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہیں، جس پر دکاندار نئی حکومت کے حوالے سے غیر یقینی اور خدشات کا اظہار کرتا ہے۔ اس دوران وکیل مذہبی گفتگو کرتے ہوئے اللہ پر بھروسہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور پھر ایک ہزار ٹکا کا نوٹ موڑ کر دکاندار کے ہاتھ میں رکھ دیتے ہیں۔
ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی۔ شہریار کبیر نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں مؤقف اختیار کیا کہ رقم خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی تھی اور اس کا مقصد ووٹ حاصل کرنا نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میرپور کے علاقے میں انتخابی مہم چلا رہے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ جس شخص کو رقم دی گئی وہ اس حلقے کا رجسٹرڈ ووٹر ہے یا نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر میں ووٹ خریدنے کی کوشش کر رہا ہوتا تو یہ کام کیمروں کے سامنے نہ کرتا’۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے مہم کے دوران سینکڑوں افراد سے ملاقات کی مگر کسی اور کو رقم نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیے: فوج میں غیر قانونی ہلاکتوں کی روایت پہلے سے تھی جبری گمشدگیاں بعد میں آئیں، سابق بنگلہ دیشی آرمی چیف
حلقہ ڈھاکا-15 کے ریٹرننگ افسر محمد یونس علی نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک ویڈیو نہیں دیکھی، تاہم انتخابی مہم کے دوران رقم تقسیم کرنا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر باضابطہ شکایت درج کرائی گئی تو الیکشن کمیشن کارروائی کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں آئندہ عام انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ چکی ہے اور انتخابی مہم کے طرزِ عمل پر عوامی اور سرکاری سطح پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔














