نیٹ میٹرنگ پالیسی اور سولر زادے

منگل 10 فروری 2026
author image

نوید نسیم

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کو نیٹ میٹرنگ پالیسی میں تبدیلی نہیں کرنی چاہیے تھی، لیکن اس بدلتی پالیسی سے جزوی متاثرہ سولر سسٹم لگوانے والے سولر زادے (سولر نیٹ میٹرنگ صارفین کی کل تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے، جن میں سے 82 فیصد سولر زادوں کا تعلق بڑے شہروں سے ہے)۔

ان کی خدمت میں عرض ہے کہ وہ برائے مہربانی ان صارفین کا بھی خیال کریں جن کی مالی استطاعت سولر لگوانے کی اجازت نہیں دیتی اور یہ صارفین وہ کپیسٹی چارجز بھی ادا کرتے ہیں، جن کے معاہدے سابقہ حکومتیں کر چکی ہیں، اور ان غیر سولر زادوں کا ان چارجز کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں۔

خیال رہے کہ بجلی کے شعبے کے نگران ادارے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی ’نیپرا‘ کی جانب سے ملک میں سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ متعارف کروائی گئی ہے۔

نئے حکومتی ریگولیشنز کے مطابق پرانے سولر زادوں کو یہ رعائت دی گئی ہے کہ وہ اپنی بجلی نیشنل گرڈ کو 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ فروخت کریں گے، جبکہ نئے  سولر زادوں کی پیدا کردہ بجلی 8 روپے 13 پیسوں میں واپڈا لے گا۔

تاہم پرانے سولر زادوں کو ایکسپورٹ کردہ اضافی یونٹس جو کہ پہلے 3 ماہ کے لیے کریڈٹ کیے جاتے تھے، اب صرف ایک ماہ کے لیے کریڈٹ کیے جائیں گے۔

حکومت کی طرف سے نئی ریگولیشنز لانے کے بعد سولر زادے نئے ہوں یا پرانے، دونوں ہی حکومتی اقدام پر سراپا احتجاج ہیں اور وہ سولر زادے جو محفلوں میں غیر سولر زادوں کو تحقیر بھری نظروں سے دیکھتے تھے اور سولر کے فوائد پر بھاشن دیتے تھے، ان ریگولیشنز کے بعد اس انتظار میں ہے کہ کوئی ان سے ہمدردی کے دو بول ہی بول دے۔

 خیر ان سولر زادوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جنہوں نے لالچ میں اپنی ضرورت سے زائد کے سولر سسٹم لگوائے تھے تاکہ وہ اضافی بجلی واپڈا کو فروخت کر سکیں، ان اضافی یونٹس کی ادائیگی بھی غیر سولر زادوں کو ہی ادا کرنے پڑتی ہے۔

قارئین کو یہ بھی واضح کرتے جائیں کہ متوسط طبقے کو دی گئی 200 یونٹس پر فراہم کردہ سبسڈی کا فائدہ بھی یہ سولر زادے بھی اٹھا رہے ہیں اور وزیر توانائی کے مطابق 200 یونٹس استعمال کرنے والوں کی تعداد 90 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ سے زائد ہو گئی ہے۔

چونکہ یہ سولر زادے اپنی پیدا کردہ بجلی ہی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے واپڈا یونٹس کی تعداد 200 یونٹس سے کم رہتی ہے اور وہ بھی اس سبسڈی سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جس کے مستحق صرف متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانے ہیں۔

موجودہ صورت حال میں سولر زادے نئے ہوں یا پرانے، انہیں یہ سوچ کر خوش ہونا چاہیے کہ معاشرے میں اب بھی ان کا سٹیٹس غیر سولر زادوں سے اونچا ہی رہے گا اور انہیں حکومت کا یہ پالیسی اس وقت لانے پر بھی شکر ادا کرنا چاہیے کہ جب موسم میں تبدیلی کے سبب دھوپ کا دورانیہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان سولر زادوں کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں بتدریج اضافہ ہو گا۔

آخر میں سولر زادوں کو مشورہ ہے کہ انہیں اسی پر اکتفا کرنا چاہیے (جن کی بڑی تعداد سولر میں کی گئی سرمایہ کاری پوری کر چکے ہیں) کہ وہ ماضی میں بھاری بلوں سے محفوظ رہے اور اب انہیں صرف اپنی پیدا کردہ سولر بجلی پر ہی گزارہ کرنا پڑے گا۔

اور جنہوں نے لالچ میں اضافی سولر پلیٹس لگوائیں، وہ صدقے یا خیرات کے طور پر اضافی پیدا کردہ یونٹس واپڈا کو دے کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بھارت کا ممنوعہ ادویات بنانے اور استعمال کرنے والوں میں پہلا نمبر، کھیلوں کی میزبانی خطرے سے دوچار

بشریٰ بی بی کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی تصدیق

انڈونیشیا میں ہیلی کاپٹر حادثہ، 8 افراد جاں بحق

شوہر سے جھگڑا، خاتون نے کھڑکی سے ڈالرز کی بارش کر دی، ویڈیو وائرل

لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم، پاکستان امن کے لیے کردار جاری رکھے گا، شہباز شریف

ویڈیو

ترکیہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں: وزیراعظم شہباز شریف اور حاقان فیدان کی ملاقات، امریکا ایران امن معاہدے کی کوششیں تیز

افغانستان میں کامیاب کارروائی کے بعد پاکستان میں 70 فیصد دہشتگرد کارروائیوں میں کمی ہوئی، صحافیوں کی رائے

واسا لاہور عالمی سطح پر نمایاں، ٹاپ 5 واٹر یوٹیلیٹیز میں شارٹ لسٹ

کالم / تجزیہ

امریکا ایران مذاکرات: کیا ہونے جا رہا ہے؟

ہنساتے ببو برال کی اداس کہانی

جب پاکستان ہے تو کیا غم ہے؟