بنگلہ دیشی حکومت نے دسمبر 2025 میں ہجوم کے تشدد کا نشانہ بننے والے ہندو برادری کے نوجوان دیپو چندرا داس کے اہلِ خانہ کے لیے مالی امداد اور رہائشی سہولتوں کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈھاکہ: میمن سنگھ میں ہندو نوجوان کی تشدد سے ہلاکت، 10 افراد گرفتار
دیپو داس کو 18 دسمبر 2025 کو میان سنگھ کے بھلوکا اپازلا کے اسکوائر ماسٹر باری علاقے میں مبینہ توہین آمیز ریمارکس کے الزام میں مشتعل ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق انہیں پہلے بری طرح مارا پیٹا گیا اور پھر درخت سے لٹکایا گیا اور بعد ازاں آگ لگا کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کو فرقہ وارانہ تشدد کا سنگین واقعہ قرار دیا گیا۔
23 دسمبر 2025 کو چیف ایڈوائزر کی ہدایت پر ایجوکیشن ایڈوائزر سی آر ابرار نے دیپو داس کے گھر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے لواحقین سے تعزیت کی اور حکومت کی جانب سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
حکومتی بیان کے مطابق دیپو داس اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے جس کے پیش نظر حکومت نے اہلخانہ کی بحالی اور تحفظ کے لیے جامع امدادی پیکج دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی نگرانی میں نیشنل ہاؤسنگ اتھارٹی کے ذریعے 25 لاکھ ٹکہ کی لاگت سے ایک مستقل مکان تعمیر کیا جائے گا جبکہ نقد مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش: محنت کش کی ہلاکت پر حکومت کا اظہار افسوس، شفاف تحقیقات کی یقین دہانی
منصوبے کے تحت دیپو داس کے والد اور اہلیہ کو 10،10 لاکھ ٹکہ دیے جائیں گے جبکہ ان کے بچے کے مستقبل کے تحفظ کے لیے 5 لاکھ ٹکہ کی رقم فکسڈ ڈپازٹ میں رکھی جائے گی۔
منگل کے روز گفتگو کرتے ہوئے ایجوکیشن ایڈوائزر ڈاکٹر ابرار نے اس قتل کو بے حد گھناؤنا اور ناقابل جواز جرم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں اور حکومت کی جانب سے دی جانے والی امداد اس نقصان کے مقابلے میں بہت معمولی ہے تاہم ریاست انصاف کی فراہمی یقینی بنائے گی۔
ڈاکٹر ابرار کا کہنا تھا کہ یہ فرقہ وارانہ جنون پورے ملک کے لیے شرمناک ہے اور صرف منصفانہ انصاف ہی قومی وقار بحال کر سکتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آزادیِ اظہار کا احترام ہر مذہب اور برادری کے لیے لازم ہے مگر کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کا حق حاصل نہیں۔
مزید پڑھیں: ہمارا مقصد بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا،اس معاملے میں ہمارا کوئی ذاتی مفاد نہیں : محسن نقوی
حکام کے مطابق اب تک اس واقعے میں ملوث 12 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ ایجوکیشن ایڈوائزر نے یقین دہانی کرائی کہ تمام ذمہ داران کو قانونی عمل کے ذریعے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔













