بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر آفس نے میمن سنگھ میں فیکٹری کے مزدور دیپو چندر داس کے قتل پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ سے تعزیت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قتل کیس، حملے اور احتجاج: بنگلہ دیش میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سخت ہدایات جاری کردی گئیں
حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے تعلیمی مشیر پروفیسر سی آر ابرار نے منگل کے روز میمن سنگھ میں دیپو کے اہلخانہ سے ملاقات کی ان کے غم میں شرکت کی اور ریاستی حمایت کی یقین دہانی کروائی۔ اس دوران انہوں نے داسو کے والد رابیلال داس اور دیگر اہلخانہ سے ملاقات کی۔
پروفیسر ابرار نے قتل کو ایک وحشیانہ جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنگلہ دیشی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں رکھتا۔
انہوں نے زور دیا کہ الزامات، افواہیں یا عقائد کے اختلافات کبھی بھی تشدد کا جواز نہیں بن سکتے اور کسی فرد کو اپنے ہاتھ میں قانون لینے کا حق حاصل نہیں ہے۔
انٹرم گورنمنٹ کی قانون کی حکمرانی کے عزم کو دہراتے ہوئے مشیر نے اہلخانہ کو یقین دلایا کہ تمام الزامات کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور انصاف بروقت اور قانونی طریقے سے فراہم کیا جائے گا۔
اب تک قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس جرم میں ملوث 12 افراد کو گرفتار کیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش کی بھارت کے ساتھ کشیدگی بڑھ گئی، دہلی میں قونصلر اور ویزا سروس معطل
حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ کیس کی مکمل تحقیقات بلا استثنیٰ کریں۔ پروفیسر ابرار نے کہا کہ ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
حکومت نے تمام شہریوں کی سلامتی، وقار اور مساوی حقوق کے تحفظ کے عزم کو دوبارہ دہرایا، چاہے ان کا مذہب، نسل یا پس منظر کوئی بھی ہو۔ ساتھ ہی معاشروں اور رہنماؤں سے اپیل کی گئی کہ وہ تشدد اور انتشار پھیلانے کی کوششوں کو مسترد کریں اور ضبط، انسانیت اور قانون کا احترام کریں۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش نے نئی دہلی ہائی کمیشن واقعے پر بھارتی دعوے کی تردید کردی
چیف ایڈوائزر کے دفتر کی جانب سے پروفیسر ابرار نے تصدیق کی کہ اہلخانہ کو مالی اور فلاحی امداد فراہم کی جائے گی اور حکام آئندہ دنوں میں بھی ان کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔














