سندھ کالج ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے صوبے بھر کے سرکاری گرلز کالجز میں اساتذہ اور طالبات کی اجازت کے بغیر تصاویر بنانے اور انہیں سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: گرلز کالجز کے لیے نئے ایس او پیز، فون کے استعمال اور تصاویر شیئر کرنے پر پابندی
میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کی جانب سے 9 فروری کو جاری کردہ ایک خط کے مطابق سی ای ڈی کے اسپیشل سیکریٹری نے فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین اساتذہ اور طالبات کی غیر مجاز تصاویر اور ویڈیوز کی اشاعت کے واقعات کا سخت نوٹس لیا ہے۔
خط میں اسپیشل سیکریٹری کالج ایجوکیشن کی 2 فروری کو جاری کردہ ایڈوائزری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے واقعات بعض گرلز کالجز میں پیش آنے کی اطلاعات ہیں جس کے بعد ان سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ایڈوائزری نوٹ کے مطابق اجازت کے بغیر فوٹوگرافی اور تصاویر کی تشہیر قابل اطلاق قوانین کے ساتھ ساتھ معاشرتی اور مذہبی اقدار کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔
مزید پڑھیے: ایئرپورٹس کے آپریشنل ایریاز کی تصاویر اور ویڈیو بنانے پر پابندی عائد
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام گرلز کالجز میں کسی بھی طالبہ یا خاتون استاد کی اجازت کے بغیر فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف متعلقہ قوانین اور ضوابط کے تحت تادیبی اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
کراچی ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن نے تمام سرکاری کالجز کے پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
مزید پڑھیں: طالبان حکومت کا میڈیا پر جاندار چیزوں کی تصاویر دکھانے پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ
خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ کالج کے پرنسپل اور عملے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا اور ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔













