امریکا میں ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے ایک منفرد اور جدید طرز کی بستی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جو ملک کی اپنی نوعیت کی پہلی ’ڈیمنشیا ولیج‘ ہوگی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاست وسکونسن میں 40 ملین ڈالر کی لاگت سے اس منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد یادداشت کی بیماری میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال کے نظام کو نئی جہت دینا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 65 ڈیمنشیا کے مریضوں کے لیے ایک محفوظ اور کمیونٹی طرز کا ماحول فراہم کیا جائے گا، جہاں وہ زیادہ قدرتی اور گھریلو فضا میں زندگی گزار سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سام سنگ گلیکسی واچ اب ڈیمنشیا کی ابتدائی علامات کی نشاندہی کرے گی
یہ منصوبہ وسکونسن کی ہاسپس کیئر تنظیم ایگریس اپنے میڈیسن کیمپس میں شروع کررہی ہے۔ منصوبے کے مطابق مریضوں کو 8،8 افراد کے چھوٹے گروپس میں مشترکہ گھروں میں رکھا جائے گا، جبکہ طبی عملہ موقع پر موجود ہوگا جو روزمرہ سرگرمیوں میں ان کی معاونت کرے گا۔
ایگریس کی چیف ایگزیکٹو آفیسر لینی سکسٹن کے مطابق اس کیمپس میں رہائش کسی ادارے جیسی محسوس نہیں ہوگی بلکہ اسے عام گھروں کی طرز پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روایتی گھروں میں موجود تمام سہولیات یہاں بھی فراہم کی جائیں گی تاکہ مریض زیادہ سے زیادہ خودمختاری اور فطری انداز میں زندگی گزار سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’ bad کولیسٹرول‘ جو ڈیمنشیا اور الزائمر کی بیماری سے بچاتا ہے
یہ ڈیمنشیا ولیج نیدرلینڈز کے مشہور ہوگے ویک ماڈل سے متاثر ہے، جس کا مقصد ڈیمنشیا کے مریضوں کو معمول کے قریب تر زندگی فراہم کرنا ہے۔ تاہم، ایگریس نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس بستی میں رہائش کے لیے خاندانوں کو کتنی فیس ادا کرنا ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ڈیمنشیا ولیج کے ستمبر 2027 میں کھلنے کی توقع ہے۔














