سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود اچکزئی کا پاک فوج سے متعلق بیان انتہائی افسوس ناک اور جھوٹ پر مبنی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ کسی بھی قسم کی بات چیت کرنا تمام سیاسی جماعتوں کا استحقاق ہے تاہم سیاست سے فوج کا کوئی لینا دینا نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز، فوج، پولیس یا ایف سی کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔
مزید پڑھیں: وزیر دفاع خواجہ آصف کی محمود اچکزئی پر تنقید، فوج سے متعلق بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیدیا
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کامیابی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد سے مشروط ہے، جبکہ پاکستان کے اندر ہونے والی تمام اسپانسرڈ دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ حالیہ ترلائی امام بارگاہ حملے کے ملزم کو دہشتگردانہ تربیت افغانستان میں دی گئی۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بیرونی اور اندرونی سازشی عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں ناگزیر ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی کی بھی سیاسی یا مذہبی سوچ کچھ بھی ہو، دہشتگردی کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔ قومیت، لسانیت یا صوبائیت کی بنیاد پر تقسیم ہونے کے بجائے متحد رہ کر تمام فتنوں کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔
سیکیورٹی ذرائع نے کہاکہ فتنہ الہندوستان درحقیقت بلوچ عوام اور بلوچستان کی ترقی کا دشمن ہے، جبکہ تین سال قبل 15 سے 20 ملین لیٹر ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی اسمگلنگ ہوتی تھی جو اب ختم ہوچکی ہے، اور یہی اسمگلنگ کا پیسہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں استعمال ہوتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس ہی دہشتگردی کے خاتمے کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔ بلوچستان میں احساسِ محرومی کے نعرے کی آڑ میں دہشت گردی کرنے والوں کو عوام پہچان چکی ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر قابو پانے کیلئے بھی نیشنل ایکشن پلان ہی کنجی ہے اور اس سلسلے میں حالیہ میٹنگز خوش آئند ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد دہشتگردی: خود کش حملہ آور کی والدہ اسلام آباد سے گرفتار
سیکیورٹی ذرائع نے کہاکہ جس طرح معرکہ حق میں متحد ہوکر بھارت کو شکست دی گئی، اسی طرح دہشت گردوں کو بھی شکست دی جائے گی۔ تعلیمی اداروں کے دوروں سے واضح ہوتا ہے کہ عوام خصوصاً نوجوان نسل پاک فوج کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے اور کوئی بیانیہ فوج اور عوام کے رشتے کو کمزور نہیں کرسکتا، کیونکہ ہمارا بیانیہ صرف پاکستان ہے۔
ذرائع نے واضح کیاکہ قانونی معاملات اور کورٹ کیسز سے جڑے تمام امور کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق عدالتوں نے کرنا ہے۔













