پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر فروخت کا دباؤ دیکھنے میں آیا جس کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 1,100 پوائنٹس کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
صبح 10 بج کر 40 منٹ پر کے ایس ای-100 انڈیکس 1,084.25 پوائنٹس یعنی 0.59 فیصد کمی کے بعد 181,965.55 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 188 ہزار پوائنٹس کی سطح برقرار نہ رکھ سکا
مارکیٹ میں سیمنٹ، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں اور ریفائنریز سمیت اہم شعبوں میں فروخت کا رجحان غالب رہا۔
مسلم کمرشل بینک، نیشنل بینک، او جی ڈی سی، پاکستان آئل فیلڈز، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور اٹک ریفائنری سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔
PSX Opened Negative 👇
☀️ KSE 100 opened negative by -518.2 points this morning. Current index is at 182,531.61 points (9:45 AM) pic.twitter.com/6Ka7HlvlBU— Investify Pakistan (@investifypk) February 12, 2026
دوسری جانب سعودی حکومت نے مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی وفد پاکستان روانہ کیا ہے۔
یہ پیش رفت متوقع طور پر سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم محمد بن سلمان کے ممکنہ دورہ پاکستان سے قبل ترجیحی ایجنڈا کو حتمی شکل دینے کے تناظر میں ہو رہی ہے۔
سعودی عرب کے معاون وزیر سرمایہ کاری ابراہیم المبارک اس وقت اسلام آباد میں موجود ہیں، جبکہ رائل کورٹ کے مشیر اور پاک-سعودی ٹاسک فورس کے چیئرمین محمد التویجری کے دفتر کا ایک وفد بھی پاکستان کے دورے پر ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان، انڈیکس 300 پوائنٹس گر گیا
یہ وفد مختلف شعبہ جاتی ورکنگ گروپس کے حتمی جائزہ اجلاس منعقد کر کے ایس پی-ای سی ایف فریم ورک کو حتمی شکل دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز یعنی بدھ کو پی ایس ایکس محتاط مثبت رجحان کے ساتھ بند ہوئی تھی، جہاں منتخب شعبوں میں خریداری کے باعث بینچ مارک انڈیکس نے ابتدائی خسارے کا ازالہ کیا، کے ایس ای 100 انڈیکس مسلسل دوسرے سیشن میں 896.25 پوائنٹس یعنی 0.49 فیصد اضافے کے بعد 183,049.81 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ امریکی ڈالر بیشتر کرنسیوں سوائے جاپانی ین کے مقابلے میں مضبوط ہوا۔

امریکا میں توقع سے بہتر روزگار کے اعداد و شمار نے قلیل مدت میں شرح سود میں کمی کی توقعات کو کمزور کیا ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی نظریں جمعہ کو جاری ہونے والی افراطِ زر کی رپورٹ پر مرکوز ہیں۔
جنوبی کوریا اور جاپان کی اسٹاک مارکیٹس نے بھی ابتدائی کاروبار میں ریکارڈ سطح کو چھوا، جس کی قیادت ٹیکنالوجی سیکٹر نے کی، جاپان میں وزیر اعظم سائی تاکائیچی کی حالیہ انتخابی کامیابی اور معاشی محرکات بڑھانے کے وعدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک انڈیکس 0.65 فیصد اضافے کے ساتھ نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ سال کے ابتدائی 6 ہفتوں میں اس کی مجموعی کارکردگی تقریباً 13 فیصد اضافے تک جا پہنچی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس ہفتے سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی معاشی رپورٹس پر مرکوز ہے، تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں ملازمتوں میں غیر متوقع اضافہ ہوا اور بیروزگاری کی شرح میں معمولی کمی آئی، جس سے لیبر مارکیٹ کے استحکام کا اشارہ ملتا ہے اور فیڈرل ریزرو قلیل مدت میں شرح سود برقرار رکھ سکتا ہے۔














