جمعرات کو قومی انتخابات کے دوران دارالحکومت کے مختلف پولنگ مراکز پر خواتین ووٹرز کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے انتخابی ماحول مزید پُرجوش اور ہمہ گیر بن گیا۔
صبح کے اوقات میں خواتین ووٹرز کی حاضری نسبتاً کم رہی، تاہم ڈھاکہ 5، ڈھاکہ 6، ڈھاکہ 8، ڈھاکہ 9 اور ڈھاکہ 11 کے حلقوں میں دوپہر کے بعد خواتین کی شرکت میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا۔
ابتدائی گھنٹوں میں زیادہ تر بزرگ مرد ووٹرز پولنگ اسٹیشنز پر نظر آئے جبکہ خواتین اور نوجوانوں کی تعداد کم تھی۔
ارم باغ ہائی اسکول اینڈ کالج کے پریذائیڈنگ آفیسر توحین احمد کے مطابق ’جیسے جیسے دن آگے بڑھ رہا ہے، خواتین ووٹرز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: یہ آزادی کا دن ہے، ڈاکٹر محمد یونس
مرزا عباس محلہ کالج میں خواتین کی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں، جہاں وہ صبر کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہی تھیں۔
نیلوفا اختر ملی نامی ایک خاتون ووٹر نے بتایا کہ وہ صبح کے گھریلو کام مکمل کرنے کے بعد ووٹ ڈالنے آئیں۔
انہوں نے کہا کہ میں نے ناشتہ اور کھانا تیار کرنے کے بعد یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔ اب یہاں خواتین کی لمبی قطار لگی ہوئی ہے۔
افسانہ نامی ایک اور خاتون، جو پہلی بار ووٹ ڈال رہی تھیں، نے کہا کہ طویل انتظار کے باوجود وہ بہت پُرجوش ہیں۔
خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ کچھ ووٹرز نے شکایت کی کہ صبح 11 بجے کے بعد ووٹنگ کا عمل سست ہو گیا، جس کی وجہ سے انہیں طویل وقت تک قطار میں کھڑا رہنا پڑا۔
ڈھاکہ-6 کے حلقے میں قاضی نذر الاسلام گورنمنٹ کالج کے پریذائیڈنگ آفیسر شفیق الاسلام کے مطابق خواتین ووٹرز نے سیکیورٹی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور بلا جھجھک پولنگ اسٹیشنز کا رخ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس مرکز پر 4 ہزار سے زائد ووٹرز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے تقریباً ایک ہزار افراد صبح 11 بجے تک ووٹ ڈال چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے بنگلہ دیش کے عام انتخابات 2026 کی تصویری جھلکیاں: 12 کروڑ 70 لاکھ ووٹرز جمہوریت کا امتحان دے رہے ہیں
بی ٹی سی ایل آئیڈیل اسکول کے پریذائیڈنگ آفیسر خسرو میاں نے بھی سیکیورٹی خدشات کی تردید کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دوپہر کے بعد خواتین کی تعداد مزید بڑھے گی۔
ملک کے کل 12 کروڑ 77 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 6 کروڑ 28 لاکھ خواتین ہیں، جو تقریباً نصف الیکٹوریٹ بنتی ہیں۔
انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ خواتین کی پُرجوش اور خود رو شرکت نے انتخابات کو مزید جامع، شفاف اور متحرک بنا دیا ہے۔














