مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں حکومتی قرضوں میں اضافہ

جمعرات 12 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران حکومتی قرضوں میں 641 ارب روپے یعنی 0.82 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے حکومت کی مسلسل قرض گیری خصوصاً اندرونی ذرائع پر انحصار اور مالیاتی استحکام کے چیلنجز نمایاں ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے، اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں انکشاف

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 کے اختتام پر مجموعی حکومتی قرضہ 78.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا جو جون کے آخر میں 77.8 کھرب روپے تھا۔ یہ قرضہ ماہانہ بنیاد پر 1.3 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 9.6 فیصد بڑھا۔

بجٹ سرپلس کے باوجود قرضوں میں اضافہ

دلچسپ امر یہ ہے کہ جولائی تا دسمبر مالی سال 2026 کے دوران ملک کو 542 ارب روپے (جی ڈی پی کا 0.4 فیصد) کا بجٹ سرپلس حاصل ہوا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.5 کھرب روپے (جی ڈی پی کا 1.3 فیصد) خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق مرکزی حکومت کے قرضوں میں اضافہ جاری مالی ضروریات اور پرانے قرضوں کی ری فنانسنگ کا نتیجہ ہے۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ سعد حنیف کے مطابق قرضوں میں اضافہ بنیادی طور پر اندرونی قرضوں کے ذریعے ہوا جن میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، سکوک اور ٹریژری بلز شامل ہیں۔

مزید پڑھیے: پاکستان کے بیرونی اور مقامی قرضے کہاں تک پہنچ گئے؟ اسٹیٹ بینک نے اعداد و شمار جاری کردیے

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی مالیاتی ذرائع محدود ہونے کے باعث حکومت مقامی بینکاری نظام کی لیکویڈیٹی پر زیادہ انحصار کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہ اگرچہ ماہانہ رفتار قابو میں دکھائی دیتی ہے لیکن مجموعی قرضوں کا حجم مالیاتی استحکام کے لیے بدستور چیلنج ہے اور یہ شرح سود میں تبدیلی سے متاثر ہو سکتا ہے۔

اندرونی اور بیرونی قرضوں کی صورتحال

مرکزی بینک کے مطابق دسمبر کے اختتام پر اندرونی قرضہ 55.4 کھرب روپے تک پہنچ گیا جو جون کے مقابلے میں 891 ارب روپے یا 1.63 فیصد زیادہ ہے۔ نومبر کے مقابلے میں اس میں 1.4 فیصد جبکہ سالانہ بنیاد پر 11 فیصد اضافہ ہوا۔

دوسری جانب بیرونی قرضہ مالی سال کی پہلی ششماہی میں 23.1 کھرب روپے رہا جو جون کے مقابلے میں 251 ارب روپے یا 1 فیصد کم ہے۔ تاہم ماہانہ بنیاد پر اس میں 1.1 فیصد جبکہ گزشتہ سال دسمبر کے مقابلے میں 6.4 فیصد اضافہ ہوا۔

مجموعی سرکاری قرض اور واجبات

مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے اختتام پر مجموعی سرکاری قرضہ 81.3 کھرب روپے تک پہنچ گیا جو جون میں 80.5 کھرب روپے تھا۔ دسمبر 2025 تک ملک کے کل قرضے اور واجبات بڑھ کر 95.5 کھرب روپے ہو گئے جبکہ دسمبر 2024 میں یہ 87.9 کھرب روپے تھے۔

قرضوں کی ادائیگی میں کمی

اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا دسمبر مالی سال 2026 کے دوران قرضوں اور واجبات کی سروسنگ 5.2 کھرب روپے رہی، جو گزشتہ سال اسی مدت میں 6.9 کھرب روپے تھی۔

اسی عرصے میں سود کی ادائیگی 3.7 کھرب روپے رہی، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم 5.5 کھرب روپے تھی۔

حکومتی مؤقف اور مالی دباؤ

حکومت کا کہنا ہے کہ اس کی مالی پوزیشن بہتر ہو رہی ہے اور سنہ 2024 کے اواخر سے اب تک 3.65 کھرب روپے کا اندرونی قرض قبل از وقت واپس کیا جا چکا ہے جس سے ری فنانسنگ کے خطرات میں کمی آئی ہے۔

تاہم مالی سال 2025 میں مجموعی سرکاری قرضہ جی ڈی پی کے 70.7 فیصد تک پہنچ گیا جو فِسکل رسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ کے تحت مقررہ حد سے زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق قرضوں کی بلند اور غیر پائیدار سطح سالانہ بجٹ کا تقریباً نصف حصہ کھا جاتی ہے جس کے باعث ترقیاتی اور سماجی اخراجات کے لیے گنجائش محدود ہو جاتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کا بالواسطہ بوجھ عام شہریوں پر ٹیکسوں اور مہنگائی کی صورت میں پڑتا ہے۔

ڈالر میں بیرونی قرض اور ادائیگیاں

31 دسمبر 2025 تک پاکستان کے مجموعی بیرونی قرض اور واجبات 138 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جو جون کے اختتام پر 136 ارب ڈالر تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں بجلی صارفین پر گردشی قرضے کا بوجھ: حکومت کا لائحہ عمل کتنا مؤثر ہے؟

مالی سال 2026 کی دوسری سہ ماہی میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی 4.1 ارب ڈالر رہی جو پہلی سہ ماہی کے 3.5 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ اس میں 1.3 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے جبکہ 2.7 ارب ڈالر اصل زر کی واپسی پر خرچ ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی جانب سے اضافی مالی معاونت کے اعلان کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی

’ڈرامہ انڈسٹری میں پیسے نہیں، اداکار گردے بیچ کر ایمار میں گھر بنا رہے ہیں‘، کنور اسلان کے حٰیران کن بیانات

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ پر آج روانہ ہوں گے

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا