پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان پس پردہ رابطوں اور مذاکرات سے متعلق چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں اور مختلف سیاسی رہنماؤں اور سینیئر تجزیہ کاروں کے حالیہ بیانات سے عندیہ ملتا ہے کہ اگرچہ باضابطہ طور پر کسی پیشرفت کی تصدیق نہیں ہوئی لیکن ماحول میں نسبتاً نرمی ضرور محسوس کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار تو حکومت بھی تیار، وزیراعظم شہباز شریف کا اعلان
پی ٹی آئی کے رہنما شاہد خٹک نے واضح کیا ہے کہ پارٹی قیادت کو عمران خان تک مکمل رسائی حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر نے پارٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے عمران خان سے ملاقات نہیں کی ہے، اس وقت نہ وکلا کو باقاعدہ ملاقات کی اجازت ہے، نہ سیاسی رہنماؤں کو اور نہ ہی اپوزیشن لیڈر یا قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کو رسائی میسر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی قیادت کو اپنے چیئرمین کی صحت اور حالات سے متعلق براہ راست آگاہی نہیں تو مختلف بیانات پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
شاہد خٹک کے مطابق بشریٰ بی بی کی ملاقات کے بعد جو پیغام سامنے آیا وہ تشویشناک تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کے حالات 10 فیصد بھی ٹھیک نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ جب تک براہ راست رسائی ممکن نہیں قیاس آرائیاں ختم نہیں ہو سکتیں۔
مزید پڑھیے: کوئی بامعنی مذاکرات کرنا چاہے گا تو عمران خان سے مشاورت کریں گے، پی ٹی آئی کا حکومتی پیشکش پر جواب
شاہد خٹک نے کہا کہ اگر مذاکرات کا ماحول بنتا ہے تو حتمی منظوری عمران خان ہی دیں گے کیونکہ جس طرح مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتیں بالکل اسی طرح پی ٹی آئی بھی عمران خان کی منظوری کے بغیر کوئی اہم قدم نہیں اٹھاسکتی۔
رعایت ملنے سے عمران خان کو اب تک حاصل سیاسی فائدہ ضائع ہوسکتا ہے، ابصار عالم
سینیئر تجزیہ کار ابصار عالم کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ پی ٹی آئی، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر بات چیت جاری ہے یا کم از کم ماحول کو نرم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ابصار عالم نے کہا کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کے لیے جو اسلام آباد کے شفا اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اب پی ٹی آئی یا عمران خان کے لیے کچھ نرمیاں پیدا ہو جائیں گی اور عمران خان کے ذاتی ڈاکٹرز ان کا علاج کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں عمران خان مستقل طور پر اسپتال منتقل ہونا نہیں چاہتے وہ سمجھتے ہیں کہ جو 3 سال کے قریب جیل میں رہ کر انہوں نے سیاسی فائدہ اٹھایا ہے مستقل طور پر اسپتال منتقل ہو جانے سے یہ فائدہ ضائع ہو جائے گا۔
’ڈیل ہو رہی ہے لیکن شرائط فائنل نہیں‘
ابصار عالم نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کے رویے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ چیزیں بہتری کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی عشق عمران میں مر مٹنے کی باتیں کرتے تھے لیکن ہم نے دیکھا کہ وہ ایپکس کمیٹی میں فوج کے ساتھ بھی بیٹھے ہیں۔
مزید پڑھیں: 5 بڑوں کی بیٹھک کے لیے دیانتداری سب سے اہم، پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات وقت کا ضیاع ہوگا، خواجہ آصف
ان کا کہنا تھا کہ محمود خان اچکزئی نے بھی دہشتگردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اس وقت دونوں اطراف ایسے لوگ موجود ہیں جو سیاسی استحکام کی کوششوں کو آگے نہیں بڑھنے دے رہے جن میں شاندانہ گلزار نمبر سرفہرست ہیں کیوں کہ وہ جس طرح کے بیانات دیتی ہیں اور گڑے مردے اٹھاتی ہیں ان کی وجہ سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔
ابصار عالم نے کہا کہ ڈیل ہو رہی ہے لیکن شرائط ابھی فائنل نہیں ہوئی ہیں۔
مشکلات کم کرنے کا واحد حل درمیانی راستے پر اتفاق ہے، منصور علی خان
سینیئر صحافی منصور علی خان نے کہا کہ عمران خان کی مشکلات کم کرنے کا ایک ہی عملی راستہ نظر آتا ہے کہ فریقین کے درمیان کسی درمیانی راستے پر اتفاق ہو۔
ان کے مطابق دونوں جانب سے سخت بیانات میں کمی محسوس ہو رہی ہے جو ممکنہ مفاہمت کی طرف اشارہ ہو سکتی ہے۔
منصور علی خان نے اس بات پر زور دیا کہ معافی کا مطالبہ مسئلے کا حل نہیں۔ ان کے بقول عمران خان کی جانب سے 9 مئی کے واقعات پر معافی مانگنے اور اسٹیبلشمنٹ سے معافی دینے کی امید غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جیل میں طبی غفلت کا الزام: عمران خان کی آنکھ متاثر، پی ٹی آئی کا قانونی کارروائی کا اعلان
ان کے مطابق سیاسی تنازعے کا حل صرف بیچ کا راستہ نکالنے میں ہے ورنہ نقصان پاکستان اور اس کی سیاست کو ہوگا۔
سینیئر تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق حالیہ دنوں میں سیاسی درجہ حرارت میں کچھ کمی آئی ہے اور خصوصاً وزیر اعظم اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات کے بعد ماحول نسبتاً نرم دکھائی دے رہا ہے۔
ان کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے بیانات میں بھی کچھ لچک محسوس کی جا رہی ہے۔
احمد ولید نے خبردار کیا کہ یہ نرمی عارضی بھی ہو سکتی ہے۔
ان کے بقول اگر عمران خان سے ملاقات کے بعد کوئی سخت یا جارحانہ بیان سامنے آیا تو موجودہ پیشرفت متاثر ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کا علاج ماہر ڈاکٹروں کے ذریعے ہونا چاہیے، علیمہ خان کا مطالبہ
احمد ولید نے کہا کہ محمود خان اچکزئی جیسے رہنما اگرچہ رابطوں میں کردار ادا کر رہے ہیں لیکن حتمی فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔













