مشرقی بھارتی ریاست ویسٹ بنگال میں دسمبر میں مہلک نیپاہ وائرس سے متاثر ہونے والی ایک نرس انتقال کر گئیں
ریاست میں صرف دو افراد وائرس سے متاثر ہوئے تھے اور متاثرہ نرس مقامی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔ ریاستی صحت حکام نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں نیپاہ وائرس کا سایہ اور ٹی20 ورلڈ کپ
سیکرٹری صحت نے بتایا کہ ’خاتون کی حالت انتہائی نازک تھی اور وہ دل کے دورے کے باعث وفات پا گئی ہیں‘۔ بھارت میں نیپاہ وائرس کے انفیکشن وقتاً فوقتاً رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جبکہ جنوبی ریاست کیرالہ دنیا کے سب سے زیادہ خطرناک علاقوں میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ نیپاہ وائرس کا شمار دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں کیا جاتا ہے، یہ خطرناک وائرس پہلی بار 99-1998ء میں ملائیشیا میں سور پالنے والے کسانوں میں پھیلنے والی ایک پراسرار بیماری کے طور پر سامنے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آن لائن جوا تشہیر کیس: ڈکی بھائی اور اہلیہ پر فردِ جرم عائد، یوٹیوبر کا صحتِ جرم سے انکار
نیپاہ وائرس عام طور پر متاثرہ چمگادڑ یا ان سے آلودہ پھلوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ یہ بخار اور دماغی سوزش پیدا کر سکتا ہے اور اس کی اموات کی شرح 40 فیصد سے 75 فیصد کے درمیان بتائی گئی ہے۔
تھائی لینڈ، سنگاپور اور پاکستان نے بھارت میں انفیکشن کی تصدیق کے بعد ہوائی اڈوں پر سکریننگ سخت کر دی تھی، تاہم World Health Organization (WHO) نے خبردار کیا تھا کہ وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ کم ہے۔
اس سے قبل جنوری میں بنگلہ دیش میں بھی ایک خاتون نیپاہ وائرس سے متاثر ہو کر انتقال کر گئی تھی۔













