امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ایک طویل اور مسلسل آپریشن کی منصوبہ بندی کررہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں 2 عہدیداروں نے بتایا کہ یہ مہم نہ صرف مشرق وسطیٰ میں خطرات کو بڑھا سکتی ہے بلکہ اس بار حملے کی منصوبہ بندی زیادہ پیچیدہ اور وسیع دائرہ کار کی حامل ہے۔
مزید پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام کی تبدیلی کا اشارہ، ایک اور بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں بھیجنے کا اعلان
عہدیداروں نے مزید کہاکہ امریکا ایران کے جوہری انفراسٹرکچر کے علاوہ ریاستی اور سیکیورٹی تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے گا اور اسے توقع ہے کہ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی ہوگی۔
دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں وہ متعلقہ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔
خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کے اڈے اردن، کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور ترکی میں موجود ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ پینٹاگون ایک اور طیارہ بردار جہاز مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے، جبکہ ہزاروں فوجی، جنگی طیارے اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز بھی خطے میں تعینات کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے خلاف ایسی کارروائی میں امریکی افواج کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ ایران کے پاس جدید میزائل سسٹمز موجود ہیں، اور ممکنہ جوابی حملے خطے میں تنازع کو بڑھا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکا کسی بھی آپشن سے گریز نہیں کرےگا، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
ادھر ایران نے کہا ہے کہ وہ پابندیاں ہٹانے کے بدلے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کا بھی اشارہ دیا ہے، اور کہاکہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بہترین چیز ہو سکتی ہے۔














