امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کی تاکہ ایرانی ریال کی قدر گر جائے اور عوام سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
دسمبر 2025 اور جنوری 2026 میں ایران میں حکومت مخالف احتجاجات کا ایک سلسلہ دیکھنے میں آیا، جو اسلامی انقلاب 1979 کے بعد سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک تھا، جو شدید اقتصادی بحران کی وجہ سے بھڑک اٹھا۔
یہ بھی پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں احتجاج کے دوران اموات کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیدیا
ایران میں قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھ کر دکانداروں نے تہران میں دکانیں بند کیں اور 28 دسمبر 2025 کو مظاہرے شروع کیے۔
ریال کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح تک گرنے کے بعد احتجاج کی لہر دیگر صوبوں تک پھیل گئی۔
U.S. Treasury Secretary Scott Bessent on Iran:
We created a dollar shortage in the country. It came to a swift conclusion.
I would say the culmination came in December, when one of the largest banks in Iran went under after a bank run. The central bank had to print money.… pic.twitter.com/vjtGaMDyt0
— Clash Report (@clashreport) February 5, 2026
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی حکومت نے مظاہرین پر کریک ڈاؤن کیا، اطلاعات کے مطابق 6,800 سے زائد مظاہرین، جن میں کم از کم 150 بچے شامل ہیں، ہلاک ہوئے۔
ڈالر کی کمی یا ’ڈالر شارٹج‘ سے مراد یہ ہے کہ ملک کے پاس عالمی تجارت کے لیے ضروری امریکی ڈالر کی کمی ہو جائے۔
چونکہ دنیا میں تیل، مشینری اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے امریکی ڈالر کا استعمال ہوتا ہے، ممالک کے لیے اسے مسلسل دستیاب رکھنا ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: ایران: حالیہ احتجاجی مظاہروں میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟ سرکاری اعدادوشمار جاری
اگر برآمدات کم ہوں اور پابندیاں امریکی مالی نظام تک رسائی روکیں، تو ڈالر نایاب ہو جاتے ہیں، جس سے مقامی کرنسی کمزور ہوتی ہے، درآمدی اشیا مہنگی ہو جاتی ہیں اور افراط زر بڑھ جاتا ہے۔
ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کرنے کے لیے بنیادی ذرائع یعنی تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی بینکنگ تک رسائی کو بلاک کیا گیا۔
جرمنی کی ماربرگ یونیورسٹی کے ماہر اقتصادیات محمد رضا فرزانگان کے مطابق، امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی موجودہ غیر ملکی کرنسی ریزروز بیرون ملک پھنس گئی اور نئے ڈالر ملکی مارکیٹ میں داخل نہیں ہو سکے۔
مزید پڑھیں:لندن میں ایرانی سفارتخانے پر احتجاج، مظاہرین نے اسلامی جمہوریہ کا پرچم اتار دیا، ویڈیو وائرل
کانگریس کی سماعت میں سوال کے جواب میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ امریکی حکمت عملی کے تحت ایران میں ڈالر کی کمی پیدا کی گئی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایرانی کرنسی گری، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور عوام سڑکوں پر نکل آئے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت نے پیسہ بیرون ملک بھیجنا شروع کر دیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کو بحران کا اندازہ ہو چکا ہے۔
دسمبر 2025 میں ایرانی ریال کی قدر 1.5 ملین فی ڈالر تک گر گئی، جو ایک سال پہلے 700,000 اور سال کے وسط میں تقریباً 900,000 تھی۔
Jeffrey Sachs:
“Iran’s unrest was not due to mismanagement. It was deliberate U.S. economic warfare, sanctions designed to collapse the currency, cripple banks, & trigger unrest.
This was openly acknowledged, yet mainstream media repeated official propaganda & erased the… pic.twitter.com/8qDDKaz8ch
— Sulaiman Ahmed (@ShaykhSulaiman) January 29, 2026
اس گراوٹ کی وجہ سے مہنگائی بہت بڑھ گئی، اور خوراک کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں اوسطاً 72 فیصد زیادہ ہو گئیں۔
ماہرین کے مطابق، امریکی اقتصادی دباؤ نے ایران کے درمیانے طبقے پر طویل مدتی اثرات مرتب کیے، خریداری کی طاقت کم ہوئی اور بچت ختم ہو گئی۔
اس کے ساتھ ہی ایران کی داخلی اقتصادی کمزوری، طویل مدتی بدانتظامی، بدعنوانی اور تیل پر انحصار نے صورتحال کو مزید خراب کیا۔
مزید پڑھیں: ایران میں بڑھتی مہنگائی اور احتجاج، حکومت کا الیکٹرونک سبسڈی دینے کا فیصلہ
اسکاٹ بیسنٹ کے اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اقتصادی جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں ہتھیار نہیں بلکہ مالیاتی دباؤ استعمال کیا جاتا ہے۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اقتصادی پابندیاں اکثر انسانی امداد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں اور اس سے ایرانی عوام کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی حکمت عملی کا مقصد ایران میں حکومتی تبدیلی ہے۔
مگر تجربہ کار ماہرین کہتے ہیں کہ صرف اقتصادی دباؤ سے ایران کی موجودہ قیادت کا خاتمہ ممکن نہیں، بلکہ عوام کی بقا اور روزمرہ کی مشکلات احتجاج کی شدت کو محدود کر سکتی ہیں۔














