پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ عدالتی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، عمران خان کا چھپ کر علاج کروانا قابل قبول نہیں ہے۔
انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں سماعت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہاکہ انہیں عمران خان کی آنکھ کی صورتحال کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب سلمان صفدر کو سپریم کورٹ میں پیش کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں: اپوزیشن احتجاج جاری، اراکین کو پارلیمنٹ کے اندر محبوس رکھا گیا ہے، تحریک تحفظ آئین کا الزام
انہوں نے کہاکہ عمران خان نے خود بتایا کہ انہیں گزشتہ 3 ماہ سے دھندلا نظر آ رہا تھا تاہم وہ صحت کے اعتبار سے فٹ ہیں۔ ملاقات کے دوران عمران خان کی آنکھ سے پانی بھی نکل رہا تھا، اور صرف آئی ڈراپ دی گئی تھی۔
علیمہ خان نے کہاکہ آنکھ کا علاج نہ کرنے پر غفور انجم جیل سپرنٹنڈنٹ اور متعلقہ ڈاکٹر ذمہ دار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا جرم عوام کی بات کرنا ہے، انہوں نے چیف جسٹس پر بھی تنقید کی کہ علاج کے لیے کوئی واضح حکم جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ انہیں چھپا کر علاج کرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، عمران خان کے ذاتی معالج کی موجودگی ضروری ہے۔
علیمہ خان نے خیبرپختونخوا کے تمام ایم این ایز، محمود اچکزئی اور ناصر عباس نقوی کے احتجاج پر شکریہ ادا کیا اور کہاکہ کے پی کے کو تب تک بند رکھا جائے جب تک عمران خان کا علاج مکمل نہیں ہوتا۔
علیمہ خان نے عوام سے اپیل کی کہ خیبرپختونخوا کے بند ہونے پر صبر سے کام لیں اور اپنا حصہ ڈالیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ صرف رپورٹس پر اعتبار نہیں کیا جائے گا اور بے بس افراد پر زور ڈالنا قابل قبول نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ رات کو فون آیا کہ اسپتال میں علاج کروا دیا جائے گا مگر ڈاکٹر اور فیملی ممبر موجود نہیں ہوں گے، جو ان کے نزدیک قابل قبول نہیں۔
واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی عدالت لاہور میں 5 اکتوبر کو پولیس پر مبینہ تشدد اور سڑک بلاک کرنے کے مقدمے میں علیمہ خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت اے ٹی سی جج منظر علی گل نے کی۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی صحت کے معاملے پر کسی کو سیاست نہیں کرنے دوں گا، سہیل آفریدی نے واضح کردیا
عدالت نے پراسیکیوشن سے مقدمات کا ریکارڈ اور وکلا سے دلائل طلب کیے اور علیمہ خان کی عبوری ضمانت میں 13 مارچ تک توسیع کر دی۔














