امریکی فوج کی سدرن کمانڈ، جو لاطینی امریکا اور کیریبین میں آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے، نے کہا ہے کہ اس نے رواں ہفتے کی دوسری مہلک کشتی کارروائی کی ہے۔ بیان کے مطابق جمعے کے روز کیریبین میں ایک کارروائی کے دوران 3 مشتبہ منشیات اسمگلر ہلاک ہوگئے۔
سدرن کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘انٹیلی جنس نے تصدیق کی کہ کشتی کیریبین میں منشیات اسمگلنگ کے معروف راستوں پر سفر کر رہی تھی اور نارکو ٹریفکنگ آپریشن میں ملوث تھی’۔ کمانڈ کی جانب سے جاری ویڈیو میں ایک کشتی کو پانی میں سفر کرتے دکھایا گیا ہے جو کسی میزائل نما ہتھیار کے حملے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی فوج کا مشرقی بحرالکاہل میں منشیات بردار کشتی پر حملہ، 2 افراد ہلاک
یہ کارروائی اس اعلان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں سدرن کمانڈ نے پیر کے روز مشرقی بحرالکاہل میں ایک اور کشتی پر مہلک حملے کی تصدیق کی تھی۔ اس حملے میں 2 مشتبہ اسمگلر ہلاک جبکہ ایک شخص زندہ بچ گیا تھا۔
جمعے کی ہلاکتوں کے بعد رواں عرصے میں مجموعی طور پر 39 حملوں میں کم از کم 133 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جو پینٹاگون کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق نومبر کے بعد کیریبین میں یہ پہلا حملہ ہے جبکہ حالیہ زیادہ تر کارروائیاں بحرالکاہل میں کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: کیریبین میں ایک اور امریکی حملہ: منشیات بردار کشتی پر کارروائی، 4 ہلاک
ان کشتی حملوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے ماورائے عدالت ہلاکتوں کے مترادف ہیں اور ان میں احتساب کا فقدان ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ سمندر میں امریکی فوجی حملوں میں مارے جانے والے افراد کو کسی قسم کا قانونی حقِ صفائی فراہم نہیں کیا جاتا۔
ادھر رواں ماہ کے آغاز میں جنرل فرانسس ایل ڈونووان نے سدرن کمانڈ کے نئے سربراہ کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ انہوں نے یہ عہدہ ایڈمرل ایلون ہولسے کی ریٹائرمنٹ کے بعد سنبھالا، جنہوں نے مبینہ طور پر کشتی حملوں کی پالیسی پر اختلافات کے باعث سبکدوش ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔













