اسلام آباد ہائیکورٹ کی نیشنل ہائی وے اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن تعیناتیوں پر شدید تنقید

پیر 16 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسلام آباد ہائیکورٹ نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) میں ڈیپوٹیشن افسران کی تعیناتیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی، اور عدالت نے این ایچ اے کو ہدایت کی کہ وہ اپنے افسران کی تعیناتی کا تفصیلی پلان حکومت کے سامنے پیش کرے۔

مزید پڑھیں: این ایچ اے کا قومی شاہراہوں کے اطراف تجارتی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ

عدالت نے حکم دیا کہ این ایچ اے میں ڈیپوٹیشن پر تعیناتیوں کا مکمل ریکارڈ 15 روز میں عدالت میں جمع کروایا جائے۔ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ہدایت پر عمل نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ستمبر میں ہم نے حکم جاری کیا، اس پر کیوں عمل درآمد نہیں ہوا؟

انہوں نے ریمارکس دیے کہ پسند نا پسند اور اقربا پروری ہوتی جارہی ہے، من پسند تعیناتیاں ہو رہی ہیں۔ لوگ منافع دیکھ کر تعیناتیاں اور فیصلے کر رہے ہیں۔ پہلے سی ڈی اے حکومت کھا گیا، اب این ایچ اے وہی کام کر رہا ہے۔ہمارے حکم پر عمل کرنے والے چیئرمین کو ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ عمل درآمد کر رہا تھا۔ یہ حرکت کرنے والوں کو جا کر بتا دیں، ہم ایکشن لیں گے۔

مزید پڑھیں: این ایچ اے کی جانب سے ایک بار پھر ٹول ٹیکس میں اضافہ، نئی شرح کیا ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسے ادارے کرپشن کا گھڑ بن چکے ہیں اور ایسے لوگ تعینات کیے جاتے ہیں جو کام نہیں ہونے دیتے۔

درخواست گزار کی جانب سے وکیل علی نواز کھرل جبکہ این ایچ اے کی جانب سے وکیل سردار تیمور اسلم پیش ہوئے۔ عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp