سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ کرنے والی میڈیکل ٹیم نے علاج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ میڈیکل ٹیم نے اتوار کے روز اڈیالہ جیل کا دورہ کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق طبی ماہرین نے سابق وزیرِ اعظم کی دائیں آنکھ کے علاج کو تسلی بخش قرار دیا اور بتایا کہ علاج کے نتیجے میں حالت میں بہتری آئی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مکمل صحت یابی کا بھی امکان موجود ہے۔
ایک گھنٹے تک طبی معائنہ
ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں تقریباً ایک گھنٹے تک پی ٹی آئی بانی کا طبی معائنہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اپنی تفصیلی رپورٹ مکمل کرنے کے بعد حکومت کو پیش کریں گے۔
یہ بھی پڑھیے آپ نے عمران خان کو آنکھ کی بیماری سے متعلق جھوٹ کیوں بولا؟ شیر افضل مروت محمود اچکزئی و دیگر پر برس پڑے
اس سے قبل 5 رکنی پینل نے آنکھوں کا معائنہ کیا، جو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا۔ ٹیم میں ڈاکٹر رفعت، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹر عارف سمیت دیگر ماہرین شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں نے پی ٹی آئی قیادت کے نمائندوں کا تقریباً ڈھائی گھنٹے انتظار کرنے کے بعد معائنہ شروع کیا، تاہم طبی جانچ کے دوران کوئی بھی پی ٹی آئی رہنما موجود نہیں تھا۔
سپریم کورٹ کی ہدایت پر مریض تک رسائی
اس سے قبل جیل سپرنٹنڈنٹ نے تصدیق کی تھی کہ ڈاکٹر طبی آلات اور ادویات کے ہمراہ جیل پہنچے تھے اور جلد ایک مفصل رپورٹ تیار کی جائے گی۔
عمران خان کا مؤقف تھا کہ وہ ایک طبی عارضے کے باعث اپنی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی کھو چکے ہیں۔ انہیں ڈاکٹروں تک رسائی سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کے بعد دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے پاکستان تحریک انصاف کا اعتراض: عمران خان کا طبی معائنہ فیملی اور ذاتی معالجین کے بغیر ناقابل قبول
ان کے وکیل سلمان صفدر نے رواں ہفتے عمران خان سے ملاقات کے بعد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم بینچ میں رپورٹ جمع کرائی تھی، جس میں مؤکل کی صحت سے متعلق خدشات ظاہر کرتے ہوئے مناسب طبی سہولیات کی درخواست کی گئی تھی۔
ابتدائی رپورٹ پنجاب حکومت کو ارسال
ذرائع کے مطابق آنکھوں کے معائنے کے آلات سے لیس ایک ایمبولینس بھی جیل کے اندر موجود تھی۔
جیل حکام نے تصدیق کی ہے کہ پی ٹی آئی بانی کے علاج سے متعلق ابتدائی طبی رپورٹ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ارسال کر دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی احتجاج اور عمران خان کی صحت کے حوالے سے حکومت کی وضاحت
حکومتِ پاکستان نے عمران خان اور دیگر قیدیوں کی صحت سے متعلق پی ٹی آئی کے احتجاجات پر وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ حکومت نے عمران خان اور جیل میں قید تمام افراد کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اور واضح کیا کہ قیدی ہونے کے باوجود انہیں مناسب طبی علاج کا حق حاصل ہے۔
جیل حکام نے پہلے ہی بروقت اور مؤثر اقدامات کیے ہیں، جس کی تفصیلات سب کے علم میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بلوچستان کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ نکال لی جائےگی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
سپریم کورٹ آف پاکستان (SCP) نے بھی پی ٹی آئی کی تشویش پر جواب دیا اور سلمان صفدر کی رپورٹ سے تمام حقائق کی تصدیق ہوئی۔ تاہم، 15 فیصد بینائی کے حوالے سے افواہوں نے غیر ضروری اضطراب پیدا کیا۔ یہ جاری علاج” کا حصہ ہے اور اسے بحالی کے طور پر بیان کیا جانا چاہیے تھا۔
متعلقہ حکام نے متعین قواعد اور ذمہ دار قیادت کی ہدایات کے مطابق کارروائی کی ہے۔ پمز اور الشفا کے ڈاکٹرز نے کل عمران خان کا جیل میں معائنہ کیا۔ حکومت کی دعوت کے باوجود پارٹی قیادت اس چیک اپ میں شامل نہیں ہوئی، جس کی وجہ اندرونی سیاست اور غیر منتخب افراد کا غیر ضروری کردار بتایا گیا ہے۔ پارٹی کو اپنی فیصلہ سازی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاجی اقدامات ٹریفک اور روزمرہ زندگی میں شدید خلل ڈال رہے ہیں، جس سے عام شہریوں کو پریشانی ہو رہی ہے۔
حکومت نے پارٹی کو ہدایت دی کہ وہ اسٹریٹ ایجیٹیشن سے ہٹ کر اپنی حکومت چلانے پر توجہ دے، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں عوامی خدمات کی فراہمی میں۔
یہ بھی پڑھیے:عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری
عمران خان کی صحت کی تازہ ترین معلومات
پمز اور الشفا انٹرنیشنل کی آنکھوں کے ماہرین کی ٹیم نے جیل میں عمران خان کا معائنہ کیا، ٹیم مکمل طور پر جدید آلات سے لیس تھی۔ معائنے کے دوران عمران خان میں اہم حد تک بحالی دیکھی گئی، اور مستقل نقصان کے بارے میں قیاس آرائیاں بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔
پارٹی قیادت اور ذاتی معالجین کو 1 گھنٹہ 30 منٹ تک ماہرین نے تفصیلی بریفنگ دی۔ تمام متعلقہ افراد نے علاج اور پیش رفت پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔ یہ وضاحت حکومت کی جانب سے عوام اور سیاسی حلقوں کو فراہم کی گئی تاکہ سیاسی تشویش کے بجائے حقائق پر توجہ دی جا سکے۔














