مسلم لیگ ن کے رہنما محفوظ الرحمن اعوان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ اور پختونخوا ہاؤس میں اپوزیشن مظاہرین کو کھانے کی فراہمی میں کوئی رکاؤٹ نہیں ہے۔
ایکس پر جاری ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ پرسوں ہم نے پوری رات پارلیمنٹ میں گزار دی اور کل علامہ ناصر عباس نے کہا کہ میں 24 گھنٹے سے بھوکا ہوں تو مجھے حیرت ہوئی کیونکہ اس رات ہم نے کھانا بھی اکٹھے کھایا تھا۔ محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور 4، 5 دیگر ساتھی بھی موجود تھے، لہٰذا ایسا نہیں ہے کہ کسی کو بھوکا رکھا گیا’۔
یہ بھی پڑھیے: پارلیمنٹ ہاؤس میں مظاہرین کی بنیادی سہولیات تک رسائی پر پابندی غیر انسانی ہے، تحریک تحفظ آئین
محفوظ الرحمن اعوان نے مزید بتایا کہ ‘پارلیمنٹ میں کھانا مسلسل پہنچتا رہتا ہے اور ایک پولیس ڈیپارٹمنٹ اس سلسلے میں مکمل سہولت فراہم کرتا ہے۔ کھانا ایک طرف اسد قیصر کے ذریعے آتا ہے اور ایک سینیٹر مرزا آفریدی کے عملے کے ذریعے بھی پہنچتا ہے، جو پی ٹی آئی کے بہت امیر رہنما ہیں اور پارلیمنٹ میں مسلسل موجود رہتے ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ کھانا 2 بڑے ذرائع سے آتا ہے، ایک الجزیرہ فوڈ سے اور دوسرا سیور سے۔ علاوہ ازیں، کچھ کھانے میلوڈی اور بعض لوگوں کے ذاتی گھروں سے بھی پہنچائے جاتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مصطفیٰ نواز کھوکر نے بھی کھانا فراہم کیا، کسی کو بھوکا نہیں رکھا گیا۔
واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد کا پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے اور انہوں نے انہیں بھیجا گیا کھانا اور ضروری اشیا روکے جانے کے الزامات لگائے ہیں۔












