امریکا میں اسلام مخالف بیان پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا جب فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکن کانگریس رینڈی فائن نے سوشل میڈیا پر مسلمانوں سے متعلق توہین آمیز تبصرہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق انہوں نے ایک آن لائن بحث کے دوران لکھا کہ ‘اگر ہمیں مجبور کیا گیا کہ کتوں اور مسلمانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں تو یہ مشکل فیصلہ نہیں ہوگا’۔ اس بیان کے بعد ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ میں اسلام مخالف سرگرم کارکن ٹومی رابنسن کو 18 ماہ قید کی سزا
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے سخت الفاظ میں کہا کہ ‘فوراً استعفیٰ دیں، آپ نسل پرست ہیں’۔ واشنگٹن میں قائم امریکی مسلمانوں کی بڑی شہری حقوق تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز نے ایوانِ نمائندگان کی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ بیان کی مذمت کرے اور رکن کانگریس سے استعفیٰ لیا جائے۔ تنظیم نے اسے مسلمانوں کو غیر انسانی قرار دینے کے مترادف اور اسلام مخالف بیانات کے تسلسل کا حصہ قرار دیا۔
تنظیم کے مطابق مذکورہ رکن کانگریس ماضی میں بھی ‘فلسطینی شناخت’ کے خلاف سخت بیانات دیتے رہے ہیں اور مسلمانوں سے متعلق متنازع مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ ایسے بیانات نفرت اور امتیازی سلوک کو بڑھا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: انڈیا میں اسلام مخالف تقریر کیخلاف احتجاج کرنیوالے مسلم رہنما کا گھر مسمار
دوسری جانب رینڈی فائن نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ‘اسلاموفوبک’ کہلانے کا خوف نہیں۔ وہ اس سے قبل فلوریڈا کی ریاستی مقننہ کے رکن بھی رہ چکے ہیں اور کانگریس میں ان کے داخلے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت حاصل رہی ہے۔
ڈیموکریٹ رکن کانگریس الہان عمر بھی ماضی میں ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ تاحال ریپبلکن قیادت نے کسی تادیبی اقدام کا اعلان نہیں کیا۔













