ٹی 20 ورلڈ کپ: تاریخ خود کو دہراتی ہے تو پاکستان کا چانس ’پکا‘ سمجھیں، جانیے کیسے؟

منگل 17 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کرکٹ کی غیر متوقع دنیا میں توہمات اور دلچسپ اتفاقات ہمیشہ شائقین کی توجہ حاصل کرتے ہیں لیکن جب کوئی سلسلہ 3 دہائیوں تک حیران کن درستگی کے ساتھ خود کو دہراتا رہے تو وہ محض اتفاق نہیں رہتا بلکہ کرکٹ کی روایت کا حصہ بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آسٹریلیا اور آئر لینڈ ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر، زمبابوے کی سپر ایٹ مرحلے میں رسائی

وی نیوز انگریزی کی ایک رپورٹ کے مطابق آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں سب سے بڑا اپ سیٹ اس وقت سامنے آیا جب آسٹریلیا گروپ مرحلے ہی میں باہر ہو گیا۔ مگر پاکستانی شائقین کے لیے یہ خبر مایوسی کے بجائے امید کی کرن لے کر آئی ہے کیونکہ ماضی میں بھی آسٹریلیا کی ابتدائی رخصتی پاکستان کے لیے خوش خبری ثابت ہوئی ہے۔

1992 بنیاد رکھنے والا سال

یہ کہانی 1992 کے ون ڈے ورلڈ کپ سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت آسٹریلیا گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا جبکہ پاکستان شدید تنقید کی زد میں تھا اور ٹورنامنٹ کے دوران مشکلات کا شکار رہا۔

تاہم عمران خان کی قیادت میں کارنرڈ ٹائیگرز نے شاندار واپسی کی اور فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر تاریخ رقم کر دی۔ یہ فتح پاکستان کی کرکٹ شناخت کا سنگ میل بن گئی۔

2009 ٹی 20 میں عروج

17 سال بعد سنہ 2009 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایک بار پھر آسٹریلیا گروپ مرحلے میں باہر ہو گیا۔

مزید پڑھیے: ٹی 20 ورلڈ کپ: نیپال نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد اسکاٹ لینڈ کو 7 وکٹوں سے شکست دی

یونس خان کی قیادت میں پاکستان نے موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور لارڈز میں سری لنکا کے خلاف فائنل جیت کر پہلا ٹی 20 عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا۔ شاہد آفریدی کی آل راؤنڈ کارکردگی اور عبدالرزاق کے اعصاب شکن لمحات میں پراعتماد کھیل نے کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔

2017  چیمپئینز ٹرافی کا معجزہ

2017 کی آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی میں بھی آسٹریلیا گروپ مرحلے سے آگے نہ جا سکا۔ پاکستان نے ابتدا میں بھارت کے ہاتھوں بھاری شکست سہی مگر سرفراز احمد کی قیادت میں ٹیم نے ناقابلِ یقین کم بیک کیا۔

فائنل میں بھارت کو 180 رنز سے شکست دے کر پاکستان نے ایک اور سنہرا باب رقم کیا۔ فخر زمان کی جارحانہ سنچری اور محمد عامر کی تباہ کن بولنگ آج بھی یادگار سمجھی جاتی ہے۔

2026  کیا تاریخ خود کو پھر دہرائے گی؟

اب 2026 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں ایک بار پھر آسٹریلیا گروپ مرحلے میں باہر ہو چکا ہے۔ ماضی کے تینوں مواقع پر آسٹریلیا کی ابتدائی رخصتی کے بعد پاکستان نے ٹرافی اپنے نام کی۔

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کی عدم موجودگی پاکستان کے لیے نفسیاتی طور پر فائدہ مند ہو سکتی ہے کیونکہ ناک آؤٹ مرحلے میں آسٹریلیا اکثر مضبوط حریف ثابت ہوتا رہا ہے۔

سابق کرکٹر باسط علی کے مطابق جب سال 1992، 2009 اور 2017 میں ہمیں ناک آؤٹ مرحلے میں آسٹریلیا کا سامنا نہیں کرنا پڑا تو راستہ نسبتاً ہموار ہو گیا اور ٹیم کا اعتماد بھی بڑھا۔

آگے کا سفر

سلمان علی آغا کی قیادت میں موجودہ پاکستانی اسکواڈ متوازن دکھائی دیتا ہے جس میں تیز گیند بازوں اور اسپنرز کا اچھا امتزاج اور ایسی بیٹنگ لائن شامل ہے جو ضرورت پڑنے پر دفاع بھی کر سکتی ہے اور جارحانہ انداز بھی اپنا سکتی ہے۔

یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پاکستان اس دلچسپ روایت کو ایک بار پھر حقیقت میں بدل پاتا ہے یا نہیں لیکن ایک ایسے ملک کے لیے جو کرکٹ کو جیتا اور سانس لیتا ہے اس بار فال نیک شگون ضرور دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ: بنگلادیش کی پاکستانی حمایت پر بھارت تلملا اٹھا

تاریخ خود کو دہراتی ہے یا نہیں مگر پاکستان کے معاملے میں اکثر کچھ اچھا ضرور کرجاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کی ملاقات

’ٹی وی کی آواز کم کرنے کو کیوں کہا‘، بیوی نے شوہر کو چاقو مار کر قتل کر دیا

ایران پر ممکنہ حملہ: برطانیہ کا امریکا کو فوجی اڈے دینے سے انکار

ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی

غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں وزیراعظم نے فلسطینی مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا، عطا اللہ تارڑ

ویڈیو

ٹوڈے بائٹس رمضان فیسٹیول، ریاض میں افطار کے لیے فیملیز کی پسندیدہ منزل

پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی سنجیدہ ہے؟

وزیرستان کی کم عمر کرکٹر آئینہ جو محنت کی پچ پر کامیابی کی اننگز کھیلنا چاہتی ہیں

کالم / تجزیہ

عماد وسیم کی دوسری شادی پر ہنگامہ کیوں؟

بنگلہ دیشی الیکشن، اور سونے کی درست ترتیب

عمران خان کو تحریک انصاف سے بچاؤ