حکومت نے حالیہ عرصے میں توانائی کے شعبے میں مالی خسارہ کم کرنے اور گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اضافہ کیا، مختلف سلیبز میں رد و بدل کیا اور بعض شعبوں کو دی جانے والی سبسڈی میں کمی یا مرحلہ وار خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔
واضح رہے اس حوالے سے حکومتی مؤقف تھا کہ یہ اقدامات معیشت کو مستحکم کرنے اور مالیاتی اہداف حاصل کرنے کے لیے ناگزیر ہیں، کیونکہ بجلی کے شعبے میں خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آلو اگانے والے پنجابی کسان دیوالیہ ہونے کے قریب، حکومت سے سبسڈی کا مطالبہ
مگر ان فیصلوں کے بعد آئی ایم ایف نے اپنے ردِعمل میں واضح کیا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ کم آمدنی والے گھرانوں پر نہیں ڈالا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف نے حکومت کو تجویز دی کہ اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے، تاہم اس دوران غریب اور کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی سفارشات کے بعد حکومت نے بعض تجاویز میں رد و بدل کیا۔ کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے ریلیف برقرار رکھنے پر غور کیا گیا، جب کہ سبسڈی کے نظام کو ہدفی بنانے کی سمت پیش رفت کی گئی تاکہ صرف مستحق افراد کو فائدہ پہنچ سکے۔ اس کے علاوہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کے ذریعے براہِ راست مالی معاونت دینے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی، تاکہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے معاشی ماہر راجہ کامران کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کے موجودہ سلیب سسٹم میں اہم تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے تاکہ سبسڈی کے نظام کو زیادہ مؤثر اور منصفانہ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت لائف لائن اور پروٹیکٹڈ صارفین کو کم یونٹس استعمال کرنے پر رعایتی نرخ دیے جاتے ہیں، مگر اس نظام میں کچھ خامیاں موجود ہیں جن کی وجہ سے سبسڈی بعض اوقات غیر مستحق افراد تک بھی پہنچ جاتی ہے۔
راجہ کامران کے مطابق بڑی تعداد میں ایسے صارفین، خصوصاً پوش علاقوں میں رہنے والے افراد، نے اپنے گھروں میں سولر سسٹم اور بیٹری بیک اپ نصب کر رکھے ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ گرڈ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں اور لائف لائن یا پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں آ جاتے ہیں، حالانکہ مالی طور پر وہ اس رعایت کے مستحق نہیں ہوتے۔ ان کے بقول اس صورتحال کو درست کرنے کے لیے حکومت سبسڈی کے طریقہ کار میں تبدیلی لانے پر غور کر رہی ہے۔
راجہ کامران کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت حقیقی لائف لائن صارفین کو براہِ راست مالی معاونت دی جائے گی، جبکہ بجلی کے بل میں عمومی رعایت ختم کی جا سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو استعمال کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے تاکہ سبسڈی صرف مستحق افراد تک محدود رہے۔ اس ماڈل کو ٹارگٹڈ سبسڈی قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ سولر صارفین کے لیے دھچکا کیوں؟
انہوں نے مزید بتایا کہ مجوزہ تبدیلیوں کے نتیجے میں ہائی اینڈ صارفین، جو زیادہ یونٹس استعمال کرتے ہیں، ان کے فی یونٹ نرخوں میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ 200 سے 400 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر 200 یونٹس کے قریب بجلی استعمال کرنے والے صارفین زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
راجہ کامران کے مطابق اس پالیسی کا بنیادی مقصد سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنا، نظام کو شفاف بنانا اور کم آمدنی والے طبقے کو براہِ راست اور مؤثر مالی سہارا فراہم کرنا ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ حکومت مکمل سلیب اصلاحات کرتی ہے یا جزوی تبدیلیوں کے ذریعے اس نظام کو نافذ کرتی ہے۔
معاشی ماہر ڈاکٹر انور شاہ، پروفیسر شعبۂ معاشیات قائداعظم یونیورسٹی، کے مطابق بجلی کے شعبے میں جاری پالیسی فیصلوں میں بنیادی کمزوری یہ ہے کہ حکومت مالی خسارہ کم کرنے کے لیے سب سے آسان راستہ یعنی صارفین پر اضافی لاگت ڈالنے کو ترجیح دے رہی ہے، جبکہ اصل اصلاحات انتظامی ڈھانچے میں ہونی چاہئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نظامی خرابیاں جوں کی توں رہیں تو نرخ بڑھانے یا سلیب بدلنے سے مسئلہ وقتی طور پر دب تو سکتا ہے مگر ختم نہیں ہوگا۔
ڈاکٹر انور شاہ نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط کو پورا کرنا ضروری ہو سکتا ہے، لیکن پالیسی بناتے وقت مقامی معاشی حقیقتوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ معیشت میں مہنگائی کی نئی لہر پیدا کرتا ہے، صنعت کی لاگت بڑھاتا ہے اور شہری گھرانوں کی مالی منصوبہ بندی کو متاثر کرتا ہے، اس لیے کسی بھی تبدیلی سے پہلے مکمل سماجی اور معاشی اثرات کا تخمینہ لگانا لازمی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سولر صارفین کے لیے خوشخبری، نیپرا کا موجودہ صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی برقرار رکھنے کا فیصلہ
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بجلی کے نرخوں کا بوجھ درمیانے درجے کے صارفین پر منتقل کیا گیا تو ادائیگیوں میں تاخیر، بقایا جات میں اضافہ اور غیر قانونی کنکشنز کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، جس سے وصولی مزید خراب ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اصلاحات کا پہلا مرحلہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے، بلنگ کے نظام کو شفاف بنانے اور لائن نقصانات کو سختی سے کم کرنے پر مشتمل ہونا چاہیے۔
ان کے مطابق توانائی پالیسی کی کامیابی کا دارومدار سخت نظم و ضبط، ادارہ جاتی جوابدہی اور مرحلہ وار عملی اصلاحات پر ہے، نہ کہ صرف نرخوں میں رد و بدل پر۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر حکومت نے بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں کو فوری طور پر درست نہ کیا تو گردشی قرضے کا دباؤ دوبارہ بڑھ سکتا ہے، چاہے قلیل مدت میں مالی اعدادوشمار بہتر کیوں نہ دکھائی دیں۔














