بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بینائی میں بہتری آگئی، بیرسٹر گوہر کا اقرار

بدھ 18 فروری 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ عمران خان کی بینائی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی خواہش بدستور یہی ہے کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ان کا مکمل اور شفاف طبی معائنہ ممکن ہو سکے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے گوہر علی خان نے کہا کہ دھرنے کا اعلان اس رپورٹ کے بعد کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان کی بینائی 85 فیصد تک متاثر ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی میں واضح بہتری، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ جاری

انہوں نے کہا کہ یہ خبر نہایت تشویشناک تھی اور اسی باعث احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

تاہم بعد ازاں بتایا گیا کہ عمران خان کی آنکھ کی حالت میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے، جس کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ عمران خان کو اسپتال منتقل کر کے ان کے ذاتی معالجین، پارٹی کے ڈاکٹروں اور اہلِ خانہ کی موجودگی میں علاج کی سہولت دی جانی چاہیے تھی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی قیادت، رشتے دار اور سوشل میڈیا کے جہادی عمران خان کی رہائی نہیں چاہتے، خواجہ آصف

ان کے بقول حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ ملاقاتوں پر پابندی ہی بیشتر مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر ملاقاتوں کی اجازت ہوتی تو پارٹی قیادت کو بروقت معلوم ہو جاتا کہ عمران خان کی صحت کی صورتحال کیا ہے، کیا علاج ہو رہا ہے اور کسی ممکنہ آپریشن یا طبی پیش رفت کی تفصیلات کیا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اہلِ خانہ، وکلا اور معالجین کو ملاقات کی اجازت نہ دینا زیادتی ہے، خصوصاً جب بات ایک سابق وزیرِاعظم اور ملک کے مقبول سیاسی رہنما کی ہو۔

مزید پڑھیں: آنکھ کا مسئلہ یا کچھ اور؟ عمران خان کو پمز اسپتال لانے کے بعد کیا کچھ ہوتا رہا؟

مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں گوہر علی خان نے کہا کہ معاملات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ بعض نمائندگان کے ساتھ رابطے اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہا ہے اور کچھ شخصیات نے مثبت کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات مناسب وقت پر سامنے لائی جائیں گی۔

دھرنے کے خاتمے کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی عدالتوں سے بھی رجوع کرے گی اور سیاسی و آئینی طریقے سے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ عمران خان سے ملاقاتوں کی اجازت اور ان کی رہائی کے لیے قانونی و سیاسی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایوانِ صدر میں سفارتی تقریب، 6 ممالک کے سفیروں نے صدر زرداری کو اپنی اسناد پیش کیں

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

پاکستان نے خطے میں قیام امن کے لیے اہم اور مثبت کردار ادا کیا، رجب طیب ادروان

9 اپریل کا جلسہ: پی ٹی آئی کا موٹروے کی بجائے جی ٹی روڈ سے جانے کا فیصلہ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 9 اور 10 اپریل کو مقامی تعطیلات کا اعلان

ویڈیو

امریکا ایران جنگ بندی: پاکستان کی سفارتکاری پر اسلام آباد کے عوام کیا کہتے ہیں؟

مری میں شدید بارش، لینڈ سلائیڈ اور سیلاب کا خطرہ، ہائی الرٹ جاری

اورنج لائن ٹرین میں مفت سفر کرنے کا آسان طریقہ

کالم / تجزیہ

نوبل امن انعام تو بنتا ہے

پاکستان نے جنگ بندی کیسے کرائی؟ کیا، کیسے اور کیونکر ممکن ہوا؟

فیصلہ کن موڑ: امن جیتے گا یا کشیدگی؟