پاکستان میں تعینات سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب پاکستان کے ساتھ ایک اسٹریٹجک اقتصادی معاہدے کی تیاری کر رہا ہے، جس پر جلد دستخط متوقع ہیں۔
انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں کنگ سلمان ہیومینیٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (کے ایس ریلیف) کے تحت رمضان فوڈ اسسٹنس پروگرام کی افتتاحی تقریب کے موقع پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر کا دورہِ سعودی عرب پاکستان کے لیے کیا اہمیت رکھتا ہے؟
سعودی سفیر کا بیان اس اہم پیشرفت کے چند ماہ بعد سامنے آیا ہے جب ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیانStrategic Mutual Defense Agreement پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کسی ایک پر جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
سفیر نواف المالکی نے کہا کہ 3 ماہ قبل ہم نے اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کیے تھے۔ اب ان شااللہ ہم پاکستان اور سعودی عرب کی معیشت سے متعلق ایک اور اسٹریٹجک منصوبے کی تیاری کر رہے ہیں، جس پر جلد دستخط ہوں گے۔
گزشتہ سال اکتوبر میں وزیر اعظم شہباز شریف کے دورۂ ریاض کے دوران دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کے فریم ورک پر اتفاق کیا تھا۔ اس موقع پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں توانائی، صنعت، کان کنی، آئی ٹی، سیاحت، زراعت اور فوڈ سیکیورٹی سمیت متعدد شعبوں میں بڑے منصوبوں کو ترجیح دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔
2024 میں دونوں ممالک مختلف شعبوں میں 2.8 ارب ڈالر مالیت کی 34 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر بھی دستخط کر چکے ہیں، جبکہ بجلی کے باہمی رابطے کے منصوبے کے لیے بھی مفاہمتی یادداشت طے پا چکی ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب پاکستان کا دوست اور محسن، بشریٰ بی بی کا بیان بے بنیاد ہے، جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ
رمضان فوڈ پروگرام
کے ایس ریلیف کے تحت شروع کیے گئے رمضان فوڈ اسسٹنس پروگرام کے ذریعے پاکستان کے 30 اضلاع میں 1 لاکھ 92 ہزار 500 مستحق افراد کے لیے 27 ہزار فوڈ باسکٹس تقسیم کی جائیں گی۔
ادارے کے مطابق ہر پیکج میں 80 کلو آٹا، 5 لیٹر کوکنگ آئل، 5 کلو چینی، 2 کلو کھجور اور 5 کلو چنا شامل ہے، جو ایک اوسط گھرانے کی رمضان بھر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
سعودی خیراتی ادارے نے کہا کہ یہ منصوبہ غذائی تحفظ کے چیلنجز سے نمٹنے اور کمزور طبقات کی معاونت کے عزم کا حصہ ہے، اور پاکستان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعاون جاری رکھا جائے گا۔














