پاکستان کی انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) برآمدات میں مالی سال 2025-26 کے پہلے 7 ماہ کے دوران 19.78 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد برآمدی آمدن 2.61 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ وزارت آئی ٹی کے مطابق یہ شعبہ بدستور ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا سروس سیکٹر بنا ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:معیشت استحکام کی جانب گامزن، حکومت ہر فرد کو نوکری نہیں دے سکتی، وزیر خزانہ
میڈیا رپورٹ کے مطابق وزارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں آئی سی ٹی برآمدات 2.18 ارب ڈالر تھیں، جو رواں سال بڑھ کر 2.61 ارب ڈالر ہو گئیں۔ صرف جنوری 2026 میں آئی ٹی برآمدات 374 ملین ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال جنوری کے 313 ملین ڈالر کے مقابلے میں 19.5 فیصد زیادہ ہیں۔
پاکستان کا آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلقہ خدمات کا شعبہ تیزی سے ترقی کرنے والے شعبوں میں شامل ہے، جو سالانہ 3 ارب ڈالر سے زائد زرمبادلہ فراہم کرتا ہے۔ اس شعبے سے تقریباً 10 لاکھ فری لانسرز اور متعدد سافٹ ویئر کمپنیاں وابستہ ہیں۔

روایتی برآمدات کے برعکس آئی ٹی سروسز زیادہ تر آن لائن اور ریموٹ کام پر مشتمل ہوتی ہیں، جیسے سافٹ ویئر ڈیولپمنٹ، آؤٹ سورسنگ اور بیک آفس خدمات۔ اس شعبے کو کم درآمدی اخراجات، نوجوان افرادی قوت اور فری لانسرز کی بڑی تعداد کا فائدہ حاصل ہے، تاہم ادائیگیوں کے مسائل، ماہر افرادی قوت کی بیرون ملک منتقلی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری جیسے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان کو 3 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا عزم، حکومت اور چیمبر آف کامرس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط
وزارت آئی ٹی کے مطابق آئی سی ٹی بدستور ملک کا سب سے زیادہ زرمبادلہ کمانے والا سروس سیکٹر ہے، جبکہ اسی عرصے میں دیگر کاروباری خدمات سے 1.21 ارب ڈالر حاصل ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید ترقی کے لیے ادائیگیوں کے نظام میں آسانی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری اور روایتی آؤٹ سورسنگ سے آگے بڑھ کر اعلیٰ معیار کی ٹیکنالوجی خدمات کو فروغ دینا ضروری ہوگا۔














