کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں انٹیلیجنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کے دوران سندھ رینجرز نے ایک ’انتہائی مطلوب‘ دہشتگرد کو گرفتار کر لیا ہے۔
جمعرات کو سندھ رینجرز کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت دوست محمد ولد گل فراز خان کے نام سے ہوئی ہے، جو باجوڑ کا رہائشی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نومبر 2020 میں ہونے والے ایک دہشتگرد حملے میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ ملوث تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کابینہ کا کراچی میں رینجرز تعیناتی میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ
ترجمان کے مطابق ملزم نے دیگر فتنہ الخوارج دہشت گرد ساتھیوں کے ساتھ مل کر خیبرپختونخوا کے علاقے ناوگئی میں اسسٹنٹ کمشنر پر فائرنگ کی اور سرکاری مشینری کو آگ لگا دی تھی۔
اس واقعے کا مقدمہ مالاکنڈ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پولیس اسٹیشن میں دہشت گردی کی سنگین دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے کے بعد ملزم کراچی میں روپوش ہو گیا تھا اور اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر حساس مقامات پر دہشتگردی کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
مزید پڑھیں: کراچی: رینجرز کا فتنہ الخوارج کے خلاف بڑا ایکشن، 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار
ترجمان کے مطابق دیگر مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے سی ٹی ڈی پولیس خیبرپختونخوا کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
سندھ رینجرز کے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے عناصر کی موجودگی کی اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، ہیلپ لائن 1101 یا مددگار واٹس ایپ نمبر 9001111-0347 پر دیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاع دینے والے کا نام صیغۂ راز میں رکھا جائے گا۔











