پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کر کے حالیہ دہشت گرد حملوں خاص طور پر باجوڑ میں 16 فروری کو سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔
واضح رہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی کے زیر اثر فتنہ الخوارج گروپ کی جانب سے کی گئی کارروائی میں 11 پاکستانی فوجی شہید ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: سیکیورٹی فورسز کی 2 الگ الگ کارروائیاں، بھارتی حمایت یافتہ 20 دہشتگرد ہلاک
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق، افغان نائب سفیر کو ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھمایا گیا ہے جس میں باجوڑ حملے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
دفترِ خارجہ نے افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے بتایا کہ پاکستان اپنی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف دہشتگردی کے کسی بھی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں: باجوڑ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید 5 اہلکاروں کی نمازِ جنازہ ادا
وزارتِ خارجہ نے گہری تشویش کا اظہار کیا کہ فتنہ الخوارج اور ٹی ٹی پی کی قیادت افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک پاکستان کے خلاف سرگرم ہے۔
پاکستان نے افغان عبوری حکومت کو واضح طور پر ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں اور ان کی قیادت کے خلاف فوری، مؤثر اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔
ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان اپنے فوجیوں، شہریوں اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے، جہاں کہیں بھی دہشت گرد عناصر موجود ہوں، کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔











