وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا حکومت کے تعمیراتی کاموں پر ٹیکس عائد کرنے کو قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت عظمیٰ نے خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے خلاف تمام اپیلیں خارج کر دی ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ کے اختیار کو محدود قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: ججز ٹرانسفر کیس سے متعلق 5 انٹرا کورٹ اپیلیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج
عدالت نے واضح کیا کہ اب آئینی تشریح کا اختیار مخصوص فورم یعنی آئینی عدالت تک محدود ہے اور عدالت کسی بھی عدالت یا ٹربیونل سے ریکارڈ طلب کر سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 کے شیڈول 2 کا سیریل نمبر 14 جو تعمیراتی خدمات پر ٹیکس سے متعلق ہے، آئین کے منافی نہیں ہے۔
مزید پڑھیں: ارشد شریف قتل کیس، وفاقی حکومت نے آئینی عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کروا دی
عدالت نے یاد دہانی کرائی کہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو سروسز پر ٹیکس لگانے کا اختیار حاصل ہے جبکہ وفاقی حکومت صرف اشیا پر ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ شہری یا کمپنی کو ایک ہی چیز پر دو بار ٹیکس نہ دینا پڑے اور اس کے لیے ریونیو اتھارٹی ایسے اصول بنائے کہ ٹھیکیدار کے کل بجٹ کو سروسز اور سامان میں الگ الگ بانٹا جائے۔
فیصلے کے مطابق ایکٹ کے سیریل نمبر 14 میں صرف تعمیراتی خدمات شامل ہیں اور اس میں اشیا شامل نہیں، لہٰذا یہ صوبے کے اختیار کے دائرہ میں آتا ہے۔













