فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں کسی بھی سیاسی یا تعمیر نو کے عمل کا آغاز اسرائیلی جارحیت کے مکمل خاتمے سے ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کے بعد غزہ میں حماس دوبارہ منظم، کنٹرول مستحکم کرنے کی کوششیں تیز
حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جب تک اسرائیل کی فوجی کارروائیاں بند نہیں ہوتیں اور فلسطینی عوام کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک خطے میں پائیدار امن یا بحالی کا عمل ممکن نہیں۔
دوسری جانب غزہ کی تعمیر نو اور مستقبل سے متعلق امور پر غور کے لیے امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف ممالک نے فلسطینی علاقے کی بحالی کے لیے مالی اور افرادی وسائل فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
اجلاس کا مقصد جنگ سے تباہ ہونے والے علاقوں کی تعمیر نو، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملے: 37 فلسطینی شہید، حماس نے شدید نتائج کی وارننگ دے دی
واضح رہے کہ غزہ میں جاری اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں اور بنیادی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں۔













