عالمی فٹبال تنظیم فیفا اور بورڈ آف پیس نے غزہ کی تعمیر نو اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فٹبال کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک اہم شراکت داری معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔
یہ معاہدہ واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے دوران طے پایا، جس کا بنیادی مقصد غزہ کی تعمیر نو کے لیے عالمی رہنماؤں اور اداروں سے مالی معاونت حاصل کرنا ہے، اس بورڈ کا قیام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے غزہ کی تعمیر نو کے لیے بڑے پروگرام کا آغاز
فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا اور فٹبال کو ترقی، روزگار اور سماجی بہتری کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت غزہ میں اسکولوں اور رہائشی علاقوں کے قریب 50 چھوٹے فٹبال گراؤنڈز، مختلف اضلاع میں 5 بڑے گراؤنڈز، ایک جدید فیفا اکیڈمی اور 20 ہزار نشستوں پر مشتمل قومی اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ فٹبال سے متعلق منصوبوں کے لیے 75 ملین ڈالر جمع کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایسے تو مسئلہ کشمیر بھی بورڈ آف پیس میں جا سکتا ہے‘، مودی سرکار پریشانی کا شکار
فیفا کے مطابق اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے باقاعدہ لیگز کا انعقاد اور مقامی معیشت کو فروغ دینا بھی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں سکیورٹی صورتحال، تعمیر نو کے اخراجات اور انسانی امداد کی فراہمی جیسے عوامل اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم چیلنجز ثابت ہو سکتے ہیں۔













